
خدمات خود ان کی دہلیز تک پہنچیں گی: ریکھا گپتا
نئی دہلی، 22 ستمبر (میرا وطن نیوز)
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت چار ’موبائل نمو شرمک سیوا کیندر‘ وین کو دہلی سکریٹریٹ سے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد مزدوروں کو سر کا ری خدمات ان کے کام کی جگہ اور آس پاس کے علاقوں میں فراہم کرنا ہے، تاکہ انہیں رجسٹریشن اور دیگر خدمات کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور ان کی یومیہ اجرت بھی ضائع نہ ہو۔اس موقع پر وزیر محنت کپل مشرا اور محکمہ کے سینئر افسران موجود تھے۔
اس موقع پر ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی کی تعمیر و ترقی میں مزدوروں کا اہم کردار ہے اور سرکار کی ذمہ داری ہے کہ ان کے لیے دستیاب سہولیات ان تک پہنچائی جائیں۔ انہوں نے کہا، ’مزدور بھائی بہن، اب دفتر نہیں، خدمت خود آپ کی دہلیز تک پہنچے گی۔‘
انہوں نے بتایا کہ موبائل وین کے ذریعے مزدوروں کی موقع پر ہی رجسٹریشن اور رجسٹریشن کی تجدید کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکیموں سے متعلق معلومات، ضروری دستاویزات کے سلسلے میں مدد، ڈیجیٹل خدمات تک رسائی اور مختلف اسکیموں کے لیے درخواست دینے میں رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی۔
ریکھا گپتا نے کہا کہ رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے حقیقی تعمیراتی مزدور سرکاری اسکیموں اور فلاحی سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ نئے نظام کے تحت مزدوروں کو اپنے کام سے وقت نکال کر دور واقع سرکاری دفاتر جانے کی ضرورت کم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ دہلی کے ہر ضلع میں ایک ایک موبائل وین چلائی جائے گی۔ مجموعی طور پر 13 وین تعمیراتی مقامات، لیبر چوک اور ان علاقوں تک جائیں گی جہاں تعمیراتی مزدور کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مزدوروں کو آسان، قابل رسائی اور سہل طریقے سے خدمات فراہم کی جائیں۔
وزیر محنت کپل مشرا نے کہا کہ ’موبائل نمو شرمک سیوا کیندر‘ کی وین براہ راست مزدوروں تک پہنچیں گی اور انہیں کام کی جگہ کے آس پاس ضروری خدمات فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ معلومات یا رجسٹر یشن کی کمی کی وجہ سے مزدور سرکاری اسکیموں سے محروم نہ رہیں، یہی اس اقدام کا مقصد ہے۔
کپل مشرا نے بتایا کہ موبائل وین کے ذریعے نئے مزدوروں کی رجسٹریشن، رجسٹریشن کی تجدید اور مختلف سرکاری اسکیموں کے لیے درخواست دینے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ مزدوروں کو دستیاب اسکیموں اور ان کے فوائد کے بارے میں بھی معلومات دی جائیں گی۔
No Comments: