Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اوکھلا اسمبلی حلقہ میں یو پی ایریگیشن محکمہ نے غیر قانونی تعمیرات کو کیا منہدم

بٹلہ ہاﺅس واقع قدیمی درگاہ خضر بابا کی توسیع کے طورپر ہورہی تھی تعمیرات

درگاہ محفوظ ہے ،نئی غیر قانونی تعمیرات کو توڑا گیا ہے : یو پی ایریگیشن محکمہ
یو پی ایریگیشن محکمہ خضر بابا کالونی کی اراضی کو بتاتا ہے اپنی ملکیت
عدالت میں معاملہ زیر غور ،متعلقہ اداروں سے نہیں لی گئی تھی تعمیر ات کی اجازت
دو گروپ نے درگاہ خضر بابا پر اپنا اپنا دعویٰ ٹھوک کر بنا دیا ہے معاملے کو پیچیدہ

نئی دہلی،11جون (میرا وطن نیوز )
دہلی کے پانچ اسمبلی حلقوں میں او -زون کے تحت آنے کالونیوں پر انہدامی کارروائی کی تلوار لٹک رہی
ہے، حالانکہ ان پارلیمانی اور اسمبلیوںکے منتخب نمائندے لوگوں کویقین دہانی کرا رہے ہیں کہ گھبرا نے کی ضر ورت نہیں ہے ۔دلچسپ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کالو نیو ں کی پرانی تعمیرات کو نہیں توڑا جائے گا ۔اس کے علاوہ جنوبی دہلی ایم پی رام ویر سنگھ بدھوڑی او ر شما ل مشر قی دہلی کے ایم پی منوج تیواری بھی لوگوں کو یقین دلا رہے ہیں کوئی پرانی تعمیرات نہیں توڑی جا رہی جب تک معاملہ حل نہیں ہوتا ہے نئی تعمیر نہیں کی جائے ۔ان تمام یقین دہانیوں کے باوجود لوگوں کو ڈر ہے کہ کہیں ان کے آشیانوں پر بلڈوزر چلا دیا جائے ۔
دوسری جانب جمعرات کو اوکھلا اسمبلی حلقہ کے ذاکر نگر وارڈ کے تحت بٹلہ ہاﺅس واقع قدیمی خضر بابا درگاہ پر انہدامی کارروائی شروع ہوئی اور اس خبر نے سوشل میڈیا پر گردش کی تب جامعہ نگر میں افرا تفری مچ گئی کہ کیا او-زون کے تحت آنے والے مکانات پربلڈوزر چلایا جا رہا ہے ۔حالانکہ یہ انہدامی کاررو ا ئی ڈی ڈی اے یا ایم سی ڈی کی طرف سے نہیں بلکہ یو پی ایر یگیشن محکمہ کے ذریعہ کی گئی اور محض اس حصے کو مسمار کیا گیاہے جس پرغیر قانونی طریقے سے نئی تعمیر کی جا رہی تھی ۔
قابل ذکر ہے کہ بٹلہ ہاﺅس علاقے میںدرگاہ خضر بابا قدیمی درگاہ ہے جو آبادی میں ہے ،یعنی درگاہ کے نام سے ہی خضر بابا کالونی منسوب ہے ۔دلچسپ یہ ہے کہ اس خضر بابا کالونی کی اراضی کو یو پی ایر یگیشن محکمہ اپنی ملکیت بتاتا ہے اور زمین کی ملکیت کو لے کرپچھلے ایک سال سے کورٹ میں بھی کیس چل رہا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ اس کے علاوہ مقامی دو گروپ بھی درگاہ پراپنا اپنا دعویٰ کر ٹھوک کر معاملے کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں جس کا فائدہ سرکاری محکمے اٹھا رہے ہیں ۔
بہرحال آج صبح یو پی ایریگیشن محکمہ کا انہدامی دستہ بھاری تعداد میں پولیس کی موجودگی میں درگاہ خضر بابا کی توسیع حصے میں کی جا رہی تعمیر کو توڑنے پہنچا ۔محکمہ اور پولیس کا کہنا تھا کہ یہ تعمیر بغیر پرمیشن کے غیر قانونی طور پر کی جا رہی ہے ۔جس اوپری منزل پر دیواریں چنی گئی تھیں انہیں توڑا جا رہا ہے ،درگاہ کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ،درگاہ محفوظ ہے۔
ادھر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے دو گروپوں کے درمیان درگاہ خضر بابا پر اپنا اپناقبضہ کے لیے سرد جنگ جاری ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے تب نئی تعمیر نہیں کی جانی چاہئے تھے ،نئی تعمیر کرنا غلط تو ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ ایک سال قبل اسی علاقے میں یوپی ایریگیشن محکمہ نے انہدامی کارروائی کے لیے نوٹس چسپاں کیے تھے جس پر کافی ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی ،جس کے بعد معاملہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا تھا ۔
دلچسپ ہے کہ درگاہ پر اپنا اپنا دعویٰ ٹھوک رہے لوگوں میں سے کوئی ایک گروپ یہاں تعمیرات کرا رہا تھا
،جس کی شکایت یو پی ایریگیشن محکمہ کے افسران تک پہنچ گئی ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ محکمہ نے پولیس کی موجو دگی میں نئی تعمیرات پر توڑ پھوڑ کی کارروائی کی ۔بہر حال اس کارروائی کے دوران منتخب نمائندے جائے وقوع پر نہیں دیکھے گئے ۔بہر حال او زون کو لے کر اوکھلا کے باشندوں میں ابھی بھی بے چینی پائی جا رہی ہے کہ کہیں ان کے آشیانوں کو مسمار کردیا جائے گا ؟

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *