
نئی دہلی، 15 جنوری (میرا وطن)
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے ریکھا گپتا سرکارکے ذریعہ ’نرمل جل‘ کے لیے 7,212 کروڑ کے پانی اور 94 واٹر اور سیوریج پروجیکٹوں کی منظوری اور اب 52لاکھ لوگوں کو 24 گھنٹے پانی فراہم کرنے کا تابڑ توڑ اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیا بی جے پی کی دہلی سرکار کا اعلان اسکیمیں زمینی سطح متاثر نہیں ہورہی ہیں ؟ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سرکار کو اقتدار میں لانے والی 60 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے، جبکہ دہلی کے 30-40 فیصد لوگ، بشمول غریب بستیو ں کے لوگ، پانی تک رسائی سے محروم ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث واٹر مافیا مسلسل سرگرم ہو رہا ہے۔
ریاستی صدر نے کہا کہ بغیر کسی مقررہ وقت کے 52 لاکھ لوگوں کو3کروڑ کی آبادی کے لیے 24 گھنٹے پانی کی فراہمی کا اعلان مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار 6,121 کروڑ روپے میں 2,741 کلومیٹر نئی واٹر سپلائی پائپ لائنیں بچھانے کی بات کر رہی ہے، جبکہ 5,200 کلومیٹر پائپ لائنیں 30 سال پرانی ہیں اور 2,700 کلومیٹر 20 سال پرانی ہیں۔ دہلی جل بورڈ کے مطابق، دہلی کی 50 فیصد پرانی پائپ لائنیں اندرونی طور پر ٹوٹی ہوئی ہیں، جو پانی کی سپلائی کو آلودہ کر رہی ہیں، اور لیک ہونے سے آدھے پانی کا نقصان ہو رہا ہے۔ سرکار نے اس پر کوئی کارروائی کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ آلودہ پانی کی شکایات کے باوجود سرکارکی جانب سے باقاعدہ اور موثر کارروائی نہ کرنے سے پانی کا بحران مزید بڑھ رہا ہے۔
No Comments: