Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

عمر خالد اور شرجیل امام کی قید پرجماعت اسلامی ہند نے تشویش ظاہر کی

نائب امیر ملک معتصم خان نے ضمانت کے جلد از جلد تصفیے کا کیا مطالبہ

نئی دہلی،6جولائی (میرا وطن نیوز )
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے دہلی کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کئے جانے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔میڈیا کے کے لیے جاری اپنے بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ ہم دہلی کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع کئے بغیر تقریباً چھ برس سے ان کی مسلسل قید سنگین آئینی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ آئین ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور شخصی آزادی کے حقوق میں فوری سماعت کا حق بھی شامل ہے۔ مقدمے کی سماعت شروع ہونےسے پہلے طویل مدت تک کی حراست نے قانونی عمل کو ہی سزا کی شکل دے دی ہے۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ یہ امر بھی انتہائی حیران کن ہے کہ اسی قانونی فریم ورک کے تحت الزامات کا سامنا کرنے والے پانچ دیگر ملزمان کو سپریم کورٹ پہلے ہی ضمانت دے چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ حکم میں یہ تسلیم کیا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف استغاثہ کا پیش کردہ مواد ‘ مختلف نوعیت’ کا ہے، اور اسی بنیاد پر یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کے تحت عائد قانونی پابندی ان پر بدستور لاگو رہتی ہے۔ ٹرائل کورٹ نے بھی خود کو اسی فیصلے کا پابند سمجھتے ہوئے اس معاملے پر ازسرِ نو غور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم ہمارا ماننا ہے کہ اس سے ایک بڑا آئینی سوال پیدا ہوتا ہے، یعنی یہ کہ ‘ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا’۔ اس اصول کی توثیق ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پہلے ہی کر چکی ہے۔ایسے میں اس اصول کو خصوصی قوانین کے تحت بھی عدالتوں کے سامنے رہنا چاہئے۔ خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں مقدمات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ہمیشہ اس مو ¿قف پر قائم رہی ہے کہ فوجداری نظامِ انصا ف کو ہر فرد کے لیے قانون کی پاسداری، قانونی مساوات اور بروقت انصاف کے اصولوں کو یقینی بنانا چاہیے۔ یو اے پی اے کے تحت ضمانت سے متعلق سخت قانونی دفعات کی تشریح اور ان کا شخصی آزادی کی ضمانت سے متعلق سوالات کو سپریم کورٹ نے ایک بڑی آئینی بنچ کے سپرد کر رکھا ہے۔ ہم سپریم کورٹ کی بڑی بنچ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یو اے پی اے کے تحت ضمانت سے متعلق زیر التوا آئینی سوالات کی جلد از جلد سماعت کرکے ان کا تصفیہ کرے تاکہ قانون کے اس اہم مسئلے کی وضاحت ہو سکے۔
ملک متعصم خان نے کہا کہ ہم متعلقہ عدالتوں اور استغاثہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ مقدمے کو مزید تاخیر کے بغیر تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ آئینی آزادیاں ہمارے جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی کمزوری ہمارے جمہوری اور آئینی اصولوں سے وابستگی کو متاثر کرتی ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *