
نئی دہلی ،19جولائی (میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے اوکھلا اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی اور نوجوان مسلم لیڈر امانت اللہ خاں نے رامپور ڈیو لپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے جاری نوٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔ اگر کسی تعمیر کے حوالے سے کوئی قانونی نوعیت کے اعتراضات موجود ہیں تو ان کا فیصلہ مثبت، شفاف اور آئینی قانونی دائرے میں عدالتوں کے ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ بلڈوزر کے ذریعے کارروائی کی جائے۔
اامانت اللہ خان نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی صرف اینٹوں اور پتھروں سے بنی عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ہزاروں طلبہ و طالبات کے خوابوں کی آماجگاہ ہے۔ یہاں کلاس رومز میں صرف کتابیں نہیں کھلتی بلکہ غریب اور متوسط خاندانوں کے بچوں کے مستقبل کے دروازے کھلتے ہیں۔ ان عمارتوں سے ہزار وں والدین کی امیدیں وابستہ ہیں۔
امانت اللہ خاں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے سے متعلق فیصلہ کرتے وقت ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اس کے اثرات ان معصوم طلبہ پر کیا پڑیں گے جن کا کسی سیاسی اختلاف سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک طالب علم کا مستقبل کسی بھی تنازع سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے، اس لیے ہر قدم انتہائی احتیاط، انصاف اور قانون کے مطابق اٹھایا جانا چاہیے۔
امانت اللہ خان نے کہا کہ اگر آر ڈی اے کے نوٹس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا اثر ان ہزاروں بچوں پر پڑے گا جو اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایک نسل کی تعلیم متاثر ہونا صرف ایک ادارے کا نقصان نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا نقصان ہے۔انہو ں نے کہا کہ جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ اختلافات کا حل قانون اور عدالتوں کے ذریعے نکالا جائے ۔ سرکاروںکی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں، نوجوانوں کے حوصلے بڑھا ئیں اور انہیں خوف نہیں بلکہ امید کا ماحول فراہم کریں۔
امانت اللہ خان نے کہا، ’تعلیم کے مراکز قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں، انہیں تنازعات کا میدان نہیں بنا نا چاہیے ۔ اگر کسی معاملے میں قانونی پیچیدگیاں ہیں تو عدالتیں موجود ہیں ، مگر کسی طالب علم کے خوا بو ں کو ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔’انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ رامپور آر ڈی اے کے نوٹس پر ہمدردانہ ، انصاف اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں دوبارہ غور کیا جائے اور ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس سے قانون کا احترام بھی برقرار رہے اور ہزاروں طلبہ کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔
امانت اللہ خاں نے کہا، ’عمارتیں دوبارہ بن سکتی ہیں، دیواریں پھر کھڑی کی جا سکتی ہیں، لیکن ایک طا لب علم کا چھن جانے والا وقت، ٹوٹ جانے والا خواب اور متاثر ہو جانے والا مستقبل واپس نہیں آتا۔ اس لیے فیصلے صرف فائلوں کو دیکھ کر نہیں، بلکہ ان ہزاروں آنکھوں کو دیکھ کر کیے جانے چاہئیں جن میں بہتر مستقبل کے خواب بستے ہیں۔
No Comments: