
نئی دہلی، 26 مئی(میرا وطن نیوز )
ایسے وقت میں جب ہندوستان کے نوجوان پیپر لیک، بے روزگاری، بدعنوانی اور ادارہ جاتی تنزل سے دوچار ہیں، مودی سرکار نے احتساب پر تکبر کا انتخاب کیا ہے۔ جو نوجوان اپنی آواز اٹھاتے ہیں
ا ن پر ’ملک دشمن‘کا لیبل لگایا جاتا ہے، قید کیا جاتا ہے، ڈرایا جاتا ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معطل کیا جاتا ہے، اور سرکارکی طرف سے ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے جس نے ان سے بہتر مستقبل کا وعدہ کیا تھا۔ جب ہندوستان کے نوجوانوں کا ’کاکروچ‘ کہہ کر مذاق اڑایا گیا اور ان کی تذلیل کی گئی تو انڈین یوتھ کانگریس نے اس توہین کے بعد پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ آئی وائی سی کے قومی انچارج منیش شرما اور آئی وائی سی کے قومی صدر ادے بھانو چِب کی قیادت میں یہ توہین اب ایک ملک گیر مزاحمتی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اس تحریک کو مزید تقویت دینے کے لیے، انڈین یوتھ کانگریس نے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا ہے:https://www.youthcockroach.org/ یہ پلیٹ فار م ملک بھر کے نوجوان ہندوستانیوں کو اپنے آپ کو ’کاکروچ‘ کے طور پر رجسٹر کرنے کی دعوت دیتا ہے — اگر، واقعی، یہ سرکار یہ مانتی ہے کہ جو لوگ روزگار، انصاف اور احتساب کے لیے آواز اٹھاتے ہیں وہ ‘کاکروچ’ کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ راہل گاندھی کی قیادت میں، انڈین یوتھ کانگریس کل بھی نوجوانوں کے ساتھ کھڑی تھی، آج بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے، اور کل بھی ان کے ساتھ کھڑی رہے گی—ہر گلی، ہر کیمپس اور ہندو ستا ن کے ہر کونے میں۔آئی وائی سی انچارج منیش شرما نے کہا: ’اگر روزگار، انصاف اور احتساب کا مطالبہ کرنا ہندوستان کے نوجوانوں کو اقتدار میں رہنے والوں کی نظروں میں ’کاکروچ‘ بنا دیتا ہے، تو ہاں، ہم اسے فخر کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔
No Comments: