
نئی دہلی، 26 مئی (میرا وطن نیوز )
دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) راجدھانی کے 10 بڑے میٹرو اسٹیشنوں پر پرانے کپڑوں کے لیے خصوصی کلیکشن باکس لگائے گی، جہاں لوگ اپنے غیر استعمال شدہ کپڑے جمع کر سکتے ہیں۔ ان کپڑوں کو ری سائیکل کرکے مفید مصنوعات میں تبدیل کیا جائے گا۔ ٹیکسٹائل کا فضلہ تیزی سے بڑ ھتے ہوئے ماحولیاتی چیلنجوں میں شامل ہے اور اس اقدام کے ذریعہ پرانے کپڑوں کی سائنسی ری سائیکلنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سے نہ صرف فضلہ میں کمی آئے گی بلکہ پائیدار ترقی کی وجہ کو بھی تقویت ملے گی۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق، اس اقدام کے لیے ڈی ایم آر سی کے ذریعہ جن 10 میٹرو اسٹیشنوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں شاہدرہ (ریڈ لائن)، موہن اسٹیٹ (وائلٹ لائن)، روہنی ویسٹ (ریڈ لائن)، لاجپت نگر (وائلٹ اور پنک لائنز)، مالویہ نگر (یلو لائن)، میور وہار فیز-1 (بلیو اینڈ پنک لائن)، ہاو ¿ز اور پنک لائنز ، ویسٹ (پنک اینڈ گرین لائنز)، دوارکا (بلیو لائن) اور شالیمار باغ (پنک لائن)شا مل ہیں۔۔ ان اسٹیشنوں کا انتخاب آپریشنز ڈیپارٹمنٹ نے کیا تھا، اور سیکیورٹی ٹیم نے ان مقامات کا جائزہ بھی لیا ہے۔ ریکھا گپتا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کو ری سائیکلنگ مہم میں شامل کرنا اور کپڑوں کے دوبارہ استعمال کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا ہے۔ دہلی سرکار عوام کی شرکت سے چلائی جانے والی ماحولیاتی مہموں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی سرکار اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جمع کیے گئے کپڑوں کو ماحول دو ست انداز میں استعمال کیا جائے، پورے عمل میں شفافیت اور کارکردگی کو برقرار رکھا جائے۔ اس اقدام کے تحت، جمع شدہ استعمال شدہ کپڑوں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا اور معروف غیر سرکاری تنظیموں (ا ین جی اوز) اور سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کے ذریعہ دوبارہ استعمال اور اپ سائیکلنگ (مفید مصنوعات میں تبدیلی) کے لیے دستیاب کیا جائے گا۔ ان کپڑوں کو تھیلے اور قالین سمیت مختلف مفید مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔
ڈی ایم آر سی ان اپ سائیکل شدہ مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے لیے منتخب میٹرو اسٹیشنوں پر مخصوص جگہیں بھی فراہم کرے گی۔ مزید برآں،بقیہ کپڑوں کو ری سائیکلنگ یونٹس کو بھیجا جائے گا تاکہ وہ دھاگے، فائبر اور نان وون فیلٹ جیسی مصنوعات میں تبدیل کیے جائیں، اس طرح کم سے کم فضلہ پیدا ہونے کو یقینی بنایا جائے گا۔اس اسکیم کے سلسلے میں، ڈی ایم آر سی کے سول (او اینڈ ایم) ڈپارٹمنٹ نے مختلف ایجنسیوں سے را بطہ کیا ہے۔
No Comments: