
نئی دہلی، 11 اگست(میرا وطن نیوز )
دہلی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آخری دن وزیر اعلی ریکھا گپتا نے ایوان میں پیش کی گئی سی اے جی رپورٹس پر بحث کے دوران مالی بے ضابطگیوں، اسکیم کے نفاذ میں لاپرواہی، اور سرکاری مشینری میں شفا فیت کی کمی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹیں کسی سیاسی جماعت یا سرکار نے نہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے آئینی آڈٹ ادارے سی اے جی نے تیار کی ہیں اور مختلف محکموں اور اسکیموں کے کام کا تفصیلی آڈٹ پیش کرتی ہیں۔ جب سے موجودہ سرکارنے اقتدار سنبھالا ہے، سی اے جی کی زیر التواءرپورٹیں ایوان میں پیش کی گئی ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی مدت میں اسمبلی کے سامنے کل 19 سی اے جی رپورٹیں پیش کی گئی ہیں۔ ان رپورٹس پر مسلسل ایکشن لیا جا رہا ہے اور پبلک اکاو ¿نٹس کمیٹی (پی اے سی) بھی ان کا نوٹس لے رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ ایوان میں پیش کی گئی دو بڑی رپورٹیں درحقیقت ایک رپورٹ کارڈ ہیں ۔ یہ رپورٹ کارڈ اپوزیشن، موجودہ سرکار یا کسی سیاسی جماعت نے تیار نہیں کیا۔ بلکہ، یہ ملک کے سب سے بڑے آئینی آڈٹ اتھارٹی، سی اے جی نے تیار کیا ہے۔ اس آڈٹ باڈی نے پچھلی سرکارنے کام کاج کی ایک جامع تصویر پیش کی ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح عوامی فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا اور سابق عام آدمی پارٹی سرکار کے دور میں دہلی کے وسائل کا غلط استعمال کیا گیا۔
No Comments: