
نئی دہلی، 21 اگست(میرا وطن نیوز )
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ خصوصی اسکریننگ مہم کے دوران 42 دنوں میں ٹی بی کے 12,078 کیسز کی نشاندہی نے بی جے پی کی مرکزی سرکار کی ‘ٹی بی فری انڈیا’ مہم کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ، 1 جولائی تک دہلی میں 28.83 لاکھ لوگوں کی اسکریننگ- جس میں 21.67 لاکھ سینے کے ایکسرے اور 3.65 لاکھ مالیکیولر ٹیسٹ شامل ہیں- کے نتیجے میں 1.75 لاکھ ٹی بی کے مریضوں کی اطلاع ملی، یہ اعداد و شمارراجدھانی کے لیے تشویشناک ہے۔ سرکار تیز ی سے بڑھتے ہوئے ٹی بی کے معاملات کی نگرانی کے لیے فوری ماہر کمیٹی تشکیل دے اور اس شدید انفیکشن پر قابو پانے کے لیے خصوصی مہم چلائے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ ٹی بی نے لگاتار چوتھے سال راجدھانی میں کیسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سرکار کی غیر موثر تیاری کے سبب دھماکہ خیز تناسب اختیار کر لیا ہے۔ دہلی میں ٹی بی کے مریضوں میں اضا فہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ نوٹیفائیڈ کیسز 2023 میں 1,00,523، 2024 میں 1,05,343 ، اور 2025 میں 1,12,977 تھے۔ نیشنل ٹی بی کے پھیلاو ¿ کے سروے (2019-21) نے دہلی میں فی لاکھ آبادی میں 747 کیسز کی شرح درج کی ہے۔
دیویندر یادو نے ریمارکس دیے کہ اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ اس سال 24 مارچ سے 5 مئی تک ایک خصوصی اسکریننگ مہم چلائی گئی جس میں 71,603 افراد کی جانچ کی گئی جن میں 1,323 بچے اور 10,755 بالغ شامل تھے۔ یہ انکشاف ہوا کہ نئے پائے جانے والے مریضوں میں سے تقریباً 42 فیصد اضافی پلمونری ٹی بی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے کہاکہ دہلی میں 38 ہائی رسک وارڈوں کی خصو صی نگرانی کے لیے نشاندہی کی گئی ہے، کیونکہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ شہر کے ہائی رسک ٹی بی کیسز میں سے 80 فیصد سے زیادہ ان کا تعلق ہے۔ 2024 میں، ٹی بی نے 5,093 جانیں لی جو کہ سب سے زیادہ تعداد ہے- جو کہ دہلی میں ہونے والی تمام اموات کا 4.86 فیصد ہے، یہ اعداد و شمار انتہائی تشو یشنا ک ہے۔
No Comments: