Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

کیا ایتھنول کی کھپت نے چینی کی قیمتوں میںکیا ہے اضافہ

ایک مہینے میں تقریباً 8 روپے فی کلو بڑھ گئی چینی کی قیمت

سنجے ٹوٹیجا
نئی دہلی ،21اگست (میرا وطن نیوز )
ملک میں پیٹرول میں ایتھنول کی مقدار 20فیصد بڑھانے کے بعد ای -20نام سے فروخت کئے جا رہے پیٹرول کے معیار کو لے کر ابھی سوال تھمے نہیں ہیں لیکن اب ایک نیا سوال مارکیٹ میں چینی کی بڑ ھتی قیمتوں کو لے پیدا ہوگیا ہے۔تہوار کا سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی چینی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران چینی کی قیمت میں 8 روپے فی کلو گرام سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے ۔ 20 جولائی 2026 کو چینی کی مارکیٹ قیمت 48.18 فی کلو تھی،20 اگست 2026 تک یہ 55.70 فی کلوگرام تک بڑھ گئی تھی۔
کیا ای-20 پیٹرول میں ملاو ٹ کے لئے ایتھنول کی بڑھتی ضروریات چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ہے،یہ ایک بڑا سوال ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ای-20 پیٹرول کی فروخت شروع کرنے کے بعد پیٹرول میں 20فیصد ایتھنول کی ملاوٹ کی جاتی ہے جس سے ایتھنول کی مجموعی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہندوستان میں چینی اور گنے کو ایتھنول بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
چینی کی قیمتوں میں اضافے نے ناقدین کو – جو پہلے ہی ای-20 پیٹرول کے مخالف تھے – کو اپنے اعتراضات کی نئی بنیاد فراہم کی ہے۔ جس طرح حکومت ای-20 پیٹرول سے متعلق خدشات کو محض غلط فہمیوں کے طور پر مسترد کرتی ہے، اسی طرح وہ ایتھنول کی پیداوار اور چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضا فے کے درمیان کسی بھی تعلق کی تردید کرتی ہے۔
صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی مرکزی وزارت کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے ایتھنول کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور حالیہ اضافے کو ایتھنول کی پیداوار کے لیے چینی کے استعمال سے منسوب کرنا غلط ہے۔ حکومت کی دلیل ہے کہ، حقیقت میں، ایتھنول کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی چینی کا حصہ2022-23 میں تقریباً 12 فیصد سے کم ہو کر 2025-25 میں تقر یباً 9 فیصد رہ گیا ہے۔ مزید برآں، اب ملک میں پیدا ہونے والے ایتھنول کا تقریباً تین چوتھائی حصہ اناج، خاص طور پر مکئی سے آتا ہے۔
وزارت کے مطابق، چینی کی قیمتوں میں موجودہ اضافہ کئی عوامل کی وجہ سے ہے، جن میں توقع سے کم گھریلو پیداوار، تہوار کے موسم سے قبل بڑھتی ہوئی مانگ، گنے کی فصل کو موسم سے متعلقہ نقصان، چینی کی سپلائی میں عالمی کمی، اور صنعت کے بعض طبقات کی طرف سے قیاس آرائیاں اور ذخیرہ اندوزی شا مل ہیں۔
چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی ایک اور وجہ گنے میں ‘ریڈ راٹ ‘ اور ‘ٹاپ بورر’ کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ بارشوں کی وجہ سے پانی جمع ہونے کی وجہ سے اس سال پیداوار پر پڑنے والا اثر ہے۔ چینی کی پیداوار ابتدائی تخمینوں سے کم رہی ہے۔ موجودہ سیزن کے لیے پیداوار کا تخمینہ تقریباً 306ایل ایم ٹی (لاکھ میٹرک ٹن) ہے، جبکہ گنے کی کاشت کرنے والی ریاستوں کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 343 ایل ایم ٹی تھا۔
حکومت کا موقف ہے کہ چینی کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے اور سپلائی کی قلت صرف ہندوستا ن تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک رجحان ہے۔ سال 2026-27 کے لیے تقریباً 33 ایل ایم ٹی کا عالمی چینی خسارہ متوقع ہے۔ بین الاقوامی چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو کہ 30 جون 2026 کو 474 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 20 اگست 2026 کو 552 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت کی دلیل ہے کہ ایتھنول پروگرام سے کسانوں کو فائدہ ہوا ہے اور شوگر ملوں کو تقویت ملی ہے۔ ہندوستان عام طور پر سالانہ تقریباً 320-340ایل ایم ٹی چینی پیدا کرتا ہے، جبکہ گھریلو استعمال تقریباً 280-290 ایل ایم ٹی ہے۔ زائد پیداوار کے سالوں میں، زیادہ ذخیرہ ملوں کے فنڈز کو جوڑ دیتا ہے، جس سے گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیوں میں ممکنہ طور پر تاخیر ہوتی ہے۔ اضافی چینی کو ایتھنو ل کی پیداوار کی طرف موڑنے سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملی ہے اور شوگر ملوں کی مالی صحت بہتر ہوئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ، ایتھنول پروگرام کے ذریعے، 2025-26 کے شوگر سیزن کے لیے گنے کے کاشتکاروں کے 97فیصدواجبات 20 اگست 2026 تک ادا کیے جا چکے ہیں، اور شوگر ملوں کی بہتر مالی صحت نے حکومتی امداد پر ان کا انحصار کم کر دیا ہے۔ جبکہ شوگر انڈسٹری کو 2014 اور 2021 کے درمیان کل تقریباً 14,600 کروڑ روپے کی سبسڈیز موصول ہوئیں، 2021-22 کے بعد ایسی کسی سبسڈی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ بعض شوگر ملوں اور تاجروں کی قیاس آرائیوں اور ذ خیر ہ اندوزی کی وجہ سے ہوا ہے۔ نتیجتاً، یکم اگست سے 30 نومبر 2026 تک ملک بھر میں چینی ڈیلرز پر 400 ٹن اسٹاک کی حد عائد کردی گئی ہے۔ یکم ستمبر سے بلک صارفین کو 15 دن کی کھپت سے زیادہ چینی کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مزید برآں، گھریلو دستیابی کو مزید فروغ دینے کے لیے احتیا طی اقدام کے طور پر حکومت نے 10ایل ایم ٹی (لاکھ میٹرک ٹن) خام چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجا زت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس اقدام سے چینی کی قیمتوں میں استحکام کی توقع ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *