
ڈاکٹر ہیڈگیوار اسپتال میں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا
نئی دہلی، 25 اگست (میرا وطن نیوز)
شاہدرہ ضلع کے کانتی نگر علاقے میں ایک نوجوان نے اپنی اہلیہ کے ساتھ جاری تنازعہ کی وجہ سے نالے میں چھلانگ لگا دی۔ نوجوان کی ماں اسے بچانے کے لیے اس کے پیچھے چیختی ہوئی آ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ ماں اپنے بیٹے کو بچا پاتی، اس نے گہرے نالے میں چھلانگ لگا دی۔ نوجوان کے کودتے ہی موقع پر افرا تفری مچ گئی۔
فوری طور پر واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ بعد ازاں غوطہ خوروں کو موقع پر طلب کیا گیا۔ کافی مشقت کے بعد نسیم خان (30) نامی نوجوان کو بے ہوشی کی حالت میں نالے سے باہر نکالا گیا۔ بعد میں اسے ڈاکٹر ہیڈگیوار اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر مردہ خانے بھیج دیا۔
ابتدائی تفتیش میں پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ نسیم کا اپنی اہلیہ کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا۔ اہلیہ بچوں کو ساتھ لے کر اس سے علیحدہ رہتی تھی۔ پیر کوماں سے بات چیت کے دوران اچانک نسیم غصے میں خودکشی کے لیے نکل پڑا۔ اس سے پہلے کہ ماں اسے بچا پاتی، اس نے نالے میں چھلانگ لگا دی۔ پولیس اہل خانہ سے پوچھ گچھ کر کے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
شاہدرہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس آر پی مینا نے بتایا کہ نسیم اپنے خاندان کے ساتھ سرتاج محلہ، گلی نمبر-6، کانتی نگر، کرشنا نگر میں رہتا تھا۔ اس کے کنبے میں والد تاج محمد عرف جلیل احمد، والدہ زبیدہ خاتون کے علاوہ اہلیہ امرین اور تین بچے ہیں۔ نسیم گاندھی نگر میں ہی ایک جینس فیکٹری میں کام کرتا تھا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے نسیم کا اپنی اہلیہ سے جھگڑا چل رہا تھا۔ امرین نے اس سے علیحدہ رہنا شروع کر دیا تھا، جس کی وجہ سے نسیم شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتا تھا۔ پیر کے روز وہ اپنی والدہ سے اہلیہ اور بچوں کے متعلق بات کر رہا تھا۔ اسی دوران گفتگو کے بیچ وہ اچانک جان دینے کی بات کہہ کر گھر سے نکل گیا۔
بوڑھی ماں بیٹے کو بچانے کے لیے اس کے پیچھے پیچھے بھاگی۔ نسیم کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر کانتی نگر کا بڑا نالہ واقع ہے۔ گھر سے نکلنے کے فوراً بعد وہ نالے میں کود گیا۔ کئی گھنٹوں کی سخت جدوجہد کے بعد اس کی لاش کو باہر نکالا گیا۔ پولیس نے منگل کے روز پوسٹ مارٹم کے بعد نسیم کی لاش لواحقین کے سپرد کر دی۔ پولیس معاملے کی چھان بین میں مصروف ہے۔
No Comments: