Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا میں منظور

بل کے حق میں 454 ووٹ ڈالے گئےجبکہ مخالفت صرف 2 ووٹ پڑے

نئی دہلی :لوک سبھا میں طویل بحث کے بعد آج شام ناری شکتی وَندن ایکٹ یعنی خواتین ریزرویشن بل منظور کر لیا گیا۔ خواتین ریزرویشن بل کے حق میں 454 ووٹ ڈالے گئےجبکہ مخالفت صرف 2 ووٹ پڑے۔اس طرح خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت سے پاس ہو گیا۔
خواتین کے ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث کے درمیان اپوزیشن پارٹیاں کوٹہ کے اندر کوٹے کے اپنے مطالبے پر ڈٹی رہیں۔ کانگریس پارٹی کے لیے بحث کا آغاز کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے بل کے لیے پارٹی کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ “ذات کی مردم شماری کرائی جانی چاہیے تاکہ درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور او بی سی کی خواتین کے لیے ریزرویشن کو یقینی بنایا جا سکے۔
” بحث میں حصہ لیتے ہوئے راہل گاندھی نے بھی کہا کہ یہ او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن کے بغیر ایک “نامکمل” بل ہے۔ انھوں نے خواتین کے لیے ریزرویشن کا انتظام کرنے والے اس بل کو تبدیلی کا مظہر قرار دیا، لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ اس بل کے نفاذ کے لیے مردم شماری اور حد بندی کی شرط رکھ دی گئی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کو میری حمایت ہے، یہ خواتین کے لیے بہت ضروری قدم ہے۔ خواتین نے ملک کی آزادی کے لیے بھی لڑائی لڑی ہے۔ یہ خواتین ہمارے برابر ہیں اور کئی معاملوں میں ہم سے آگے بھی ہیں۔ لیکن میرے خیال سے یہ بل ادھورا ہے۔ اس میں او بی سی ریزرویشن کو جوڑا جانا چاہیے پھر انھوں نے کہا کہ ’’بل کے نفاذ کے لیے نئی مردم شماری اور ڈیلمٹیشن کی ضرورت ہے، لیکن میری رائے ہے کہ یہ ابھی نافذ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد سیٹ ابھی ریزرو کرنی ہوگی۔
کیرالہ کے وائناڈ سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچے راہل گاندھی نے لوک سبھا میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بھی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ ’’اپوزیشن ذات پر مبنی مردم شماری کا ایشو اٹھاتا ہے تو بی جے پی دھیان ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے لیے نیا ایونٹ کرتی ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ او بی سی اور ہندوستانی لوگوں کی اس طرف توجہ نہ جائے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’مرکزی حکومت میں 90 سکریٹری میں سے صرف 3 کا تعلق او بی سی سے ہے۔ یہ ہندوستان کے 5 فیصد بجٹ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ او بی سی سماج کی بے عزتی ہے۔ دلتوں اور قبائلوں کی تعداد کتنی ہے، یہ جاننے کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری کی ضرورت ہے۔‘‘ پھر مرکزی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جلد از جلد ہمارے ذریعہ کی گئی مردم شماری کا ڈاٹا ریلیز کیجیے، نہیں تو ہم کر دیں گے۔
وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی راہل گاندھی کے بعد ایوان سے خطاب کیا اور بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “خواتین ریزرویشن بل کی منظوری سے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *