
نئی دہلی 14اگست(میرا وطن نیوز)
اسلام نے انسانی پیڑھی کے تمام ادوار کے لیے جواحکامات جاری کیے ہیں وہ انتہائی قابل قدر، مضبوط ، مستحکم ، حکیمانہ اور باریک ہیں جبکہ نئی نسل کی تربیت پر سب سے زیادہ خصوصی توجہ بھی دی گئی ہے۔ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے بچوں سے لے کر نوجوانوں تک اوربچیوں سے لے کر چڑھتی عمر کی لڑ کیوں اورخواتین تک بہت باریکی کے ساتھ تربیت کے پہلوو ¿ں کا لحاظ رکھا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، جوگابائی میں خطبہ ¿ جمعہ کے دوران کیا۔
مولانا محمد رحمانی نے کہا کہ آج جنریشن الفا اورجنریشن زی کے نام سے جونئی اصطلاحات وجود میں آئی ہیں اوراس کے ذریعہ بہت سے شر یفانہ اقدار کی پامالی ہورہی ہے اس پر بھی اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی ایک مضبوط گائیڈ لائن تیار کردی تھی۔ جس کی تفصیل کا تویہ موقع نہیں ہے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبار کہ سے چند ایسے مواقف کا تذکرہ یہاں کیا جارہا ہے جونئی نسل میں شریفانہ اقدار کو بیدار کرنے اور اسلامی تعلیمات کوتحفظ فراہم کرنے سے متعلق بہت اہم ہیں۔
مولانا رحمانی نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نئی نسل کو اللہ کے حدود اوراحکامات کے تحفظ کی تلقین اورتاکید کیا کرتے تھے اوراللہ سے مدد مانگنے اوراسی پر اعتماد اور توکل کرنے نیز اسی سے سوال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ اسی طرح سات سال کی عمر میں نماز کے واجب نہ ہونے کے باوجود نماز کا حکم دینے اور دس سال کی عمر میں بھی نہ پڑھنے پرسختی کرنے اور بستروں کو الگ کر دینے کا حکم دیا کرتے تھے اور اہل خانہ سے بچوں کے بارے میں سوال بھی کرتے تھے کہ اس نے نماز ادا کی ہے یا نہیں ، اسی طرح نماز کے طریقہ کی تربیت ، اہل وعیال پرداخل ہونے کے وقت سلام کرنے کی تلقین، بڑوں کے پاس داخل ہونے سے پہلے ان سے اجازت لینے وغیرہ کی بھی تاکید فرماتے تھے۔ آخر میں سیرت مطہرہ کے تربیتی پہلوو ¿ں کواپنانے کی اپیل اوردعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا
No Comments: