
جب کچھ لوگ برطانوی راج کے ساتھ کھڑے تھے،تب مدارس کے علما ئ‘ ہندو ستا ن کی آزادی کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے اور پھانسی کے تختے کو گلے لگا رہے تھے:گڈو جمالی
نئی دہلی ،17اگست (میرا وطن نیوز )
اتر پردیش قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی ) اور جامعہ ایلومنائی شاہ عالم گڈو جمالی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی مولانا محمد علی جوہر کے متعلق یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے تبصروں کے گئے تبصرے کی شدیدطور پر مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ میں یوگی آدتیہ ناتھ نے مولانا محمد علی جوہر کو پاکستان کا حامی قرار دیتے ہوئے تبصرہ کیا تھا ۔وزیر اعلیٰ یو پی کے اس بیان کوجامعہ ایلومنائی نے انتہائی قابل مذمت قرار دیا ہے ۔
اس موقع پر شاہ عالم گڈو جمالی نے مدارس اور ان کے علمائ(اسلامی اسکالرز) کے بارے میں کیے گئے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے ’جنگ آزادی میں مسلمانوں، علمائے کرام اور مدارس کے تعاون‘ پر رو شنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جب کچھ لوگ برطانوی راج کے ساتھ کھڑے تھے،تب مدارس کے علما ئ‘ ہندو ستا ن کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے اور پھانسی کے تختے کو گلے لگا رہے تھے۔
شاہ عالم گڈو جمالی نے مولانا محمد علی جوہرکے اس جذبے کو بھی یاد کیا، جنہوں نے آزادی کے لیے جد و جہد کرتے ہو ئے یہ واضح کر دیاتھا کہ ’ غلام ہندوستان میں واپس لوٹنا منظور نہیں – وہ تب ہی واپس آ ئیں گے جب ہندوستان آزادی ملے گی۔ ورنہ اسی جدوجہد میں سپرد خاک ہوجانا بہتر ہے۔
جامعہ ایلو منائی نے گڈو جمالی کی اس تقریر سے متعلق رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف مزاحمت بلکہ ’ہندوستان سے گہری وفاداری‘ اور جامعہ کی ’تعلیم، ثقافت اور بنیادی اخلاقیات‘ کی بھی عکاسی کرتی ہے ۔ہم گڈو جمالی کو اس پرجوش اور تاریخی خطاب کے لیے دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔آج، یہ ضر و ری ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو یاد رکھیں، اپنے خیالات کو مضبوطی سے بیان کریں، اور ہندوستان کے اتحاد اور مشترکہ ورثے میں اپنا اعتماد برقرار رکھیں۔
جامعہ ایلولمنائی نے اپنے ان قدیمی لیڈروں جو مختلف پارٹیوں میں بڑے سیاسی عہدوں پر فائض ہیں یا وابستہ ہیں اور وہ وکلاءجنہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے اور دہلی سمیت ملک کی مختلف عدالتوں میں وکالت کے فرائض انجام دے رہے ہیں وہ با الترتیب پارٹی سطحوں پر یوپی کے وزیر اعلیٰ کے مولانا محمد علی جوہر کے متعلق کی مذمت کریں اور عدالتوں میں قانون چارہ جوئی بھی کریں ۔
No Comments: