
نئی دہلی،10 جون(میرا وطن نیوز )
پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ میں واقع فیض الٰہی مسجد سے متصل زمین کے معاملہ نے ا یک بار پھر نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ سوشل و آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے ایل جی ترنجیت سنگھ سندھو سمیت متعدد سرکاری محکموں کو ایک تفصیلی میمورنڈم ارسال کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جس اراضی کا مقدمہ اس وقت دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، وہاں مبینہ طور پر غیر مجاز پارکنگ، قبضہ، باڑ بندی اور تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
محمد شاہد گنگوہی کے مطابق مذکورہ زمین 1970 کے دہلی ایڈمنسٹریٹو گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے احکامات اور میونسپل کارپوریشن کی رپورٹ کے بعد جنوری 2026 میں یہاں انہدامی کارروائی کی گئی تھی، تاہم اس کارروائی کے خلاف دائر کی گئی ریویو پٹیشن ن
اب بھی عدالت میں زیر غور ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ انہدام کے بعد خالی ہونے والی زمین پر بعض افراد غیر مجاز پارکنگ چلا رہے ہیں جبکہ اس کے لیے کسی قانونی اجازت، لائسنس یا سرکاری منظوری کی کوئی معلومات عوامی سطح پر دستیا ب نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹریفک کے مسائل اور عوامی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شکا یت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہریل اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بھی مزکورہ احاطہ کے ایک حصے میں باڑ بندی اور بیریکیڈنگ نصب کر رکھی ہیں، جبکہ اس قبضہ یا استعمال کی قانونی حیثیت کے بارے میں مقامی باشندو ں کو کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
محمدشاہد گنگوہی نے کہا کہ ترکمان گیٹ ایک صوبائی سطح پر محفوظ تاریخی یادگار ہے، اس کے باوجود اس کے نزدیک کھدائی، پائلنگ اور دیگر تعمیراتی سرگرمیوں کی اطلاعات تشویش کا باعث ہیں۔ اگر متعلقہ آ ثارِ قدیمہ اور ورثہ تحفظ اداروں کی منظوری کے بغیر یہ کام جاری ہیں تو اس سے تاریخی ورثے کو ناقا بلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ غور طلب ہے کہ صوبائی پروٹیکٹڈ مونومینٹ کے 50 میٹر کے دائرہ میں کوئی تعمیراتی کام نہیں کیا جاسکتا جبکہ مزید 100 میٹر ریگولیٹڈ ایریا ہوتا ہے وہاں بھی بغیر اجازت تعمیری سرگرمیاں انجام نہیں دی جاسکتی ۔
اپنے میمورنڈم میں محمد شاہد گنگوہی نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر مجاز پارکنگ فوری طور پر بند کرائی جائے، آر ایل ڈی اے کی باڑ بندی اور قبضہ کی تحقیقات کرائی جائیں، تعمیراتی سرگرمیوں کو جانچ مکمل ہونے تک روکا جائے، محکمہ آثارِ قدیمہ سے معائنہ کرایا جائے اور ورثہ تحفظ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف زمین کے تنازعہ کا نہیں بلکہ وقف املاک کے تحفظ، تاریخی ورثے کی بقا اور قانون کی بالادستی کا مسئلہ ہے، جس پر حکومت کو فوری اور مو ¿ثر کارروائی کرنی چاہیے۔
No Comments: