
نئی دہلی،24اپریل (میرا وطن نیوز )
بائیں بازو کی جماعتوں—کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیو نسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل)، انقلابی سوشلسٹ پارٹی، فارورڈ بلاک، اور سی جی پی آئی کی جانب سے جنتر منتر پر مشترکہ مظاہرے کیا گیا۔ مظاہرے میں نوئیڈا، غازی آباد اور دہلی کے مزدوروں اور مزد ور رہنماو ¿ں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور مرکزی وزیر محنت کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی گئی، جس میں دہلی اور این سی آر کے صنعتی علاقوں میں مزدوروں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور اس کے جواب میں ہونے والے جبر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر سبھاشنی علی نے کہا کہ دہلی-این سی آ ر کے صنعتی زونوں خصوصاً نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، غازی آباد اور گروگرام میں کارکنوں میں وسیع پیمانے پر عد م اطمینان پایا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں کم از کم اجرت کی عدم ادائیگی، کنٹریکٹ لیبر سسٹم میں توسیع، کام کے غیر محفوظ حالات اور لیبر قوانین کی صریح خلاف ورزی شامل ہیں۔
سبھاشنی علی نے الزام لگایا کہ جب بھی کارکنان اپنے جائز مطالبات جیسے کہ اجرت میں اضافہ، خدما ت کو باقاعدہ بنانے اور کام کے بہتر حالات کے لیے دباو ¿ ڈالنے کے لیے خود کو منظم کرتے ہیں تو ریاستی حکومتیں جابرانہ رویہ اپناتی ہیں، پولیس کارروائی، گرفتاریوں اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر پابندی کا سہارا لیتی ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مزدوروں کے جائز مطالبات کو محض امن و امان کا مسئلہ بنا کر جبر کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔
دیگر مقررین- امرجیت کور (سی پی آئی)، شویتا راج (سی پی آئی-ایم ایل)، آر ایس۔ ڈگر (آر ایس پی)، چوہان (فارورڈ بلاک)، اور برجو نائک (سی جی پی آئی) – نے ٹریڈ یونین کارکنوں کی حالیہ گر فتا ریوں اور نوئیڈا خطے میں پرامن تحریکوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے ان اقدامات کو جمہوری حقوق پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے اہم مطالبات پر مشتمل میمورنڈم پیش کیا گیا ۔
ان میں تمام گرفتار مزدور رہنماو ¿ں اور کارکنوں کی فوری رہائی،کارکنوں کے خلاف درج جھوٹے مقدما ت واپس لیے جائیں، کم از کم اجرت کے ضوابط اور لیبر قوانین کا سختی سے نفاذ،کنٹریکٹ لیبر سسٹم کا ضا بطہ اور مستقل ملازمت کی ضمانت اورصنعتی زونز میں محکمہ محنت کی جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔بائیں بازو کی جماعتوں نے مرکزی سرکار پر زور دیا کہ وہ مزدوروں کی شکایات کے حل کو یقینی بنانے اور جابرانہ اقدا ما ت کو ختم کرنے کے لیے فوری مداخلت کرے۔آخر میں مقررین نے واضح کیا کہ اگر مزدوروں کے جا ئز مطالبات کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو بائیں بازو کی جماعتیں اس جدوجہد کو مزید وسیع اور تیز کریں گی۔
No Comments: