Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کی ملزم عشرت جہاں کی ضمانت منسوخ کرنے سے کیاانکار

ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ ضمانت منسوخ کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے

عدالت نے دہلی پولیس کی درخواست کو مسترد کیا۔ عشرت کو4 سال قبل دی گئی تھی ضمانت

نئی دہلی، 24 اپریل (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی بنچ نے دہلی فسادات کی سازش رچنے کی ملزم سا بق کانگریسی کونسلرعشر ت جہاں کو دی گئی ضمانت کو منسوخ کرنے کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ دہلی پولیس کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے نوٹ کیا کہ عشرت جہاں کو چار سال قبل ضمانت دی گئی تھی۔ اس کے بعد کافی وقت گزر چکا ہے۔ عشرت جہاں نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی نہیں کی۔ اس لیے ضمانت منسوخ کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
دراصل 14 مارچ 2022 کو کڑکڑڈوما کورٹ نے عشرت جہاں کو ضمانت دی تھی۔ عشرت جہاں کو 26 فروری 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ عشرت جہاں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 109، 147، 148، 149، 186، 307، 332، 353 اور 34 اور آرمس ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق عشرت جہاں نے ہجوم کو یہ کہہ کر اکسایا کہ ہم مر سکتے ہیں لیکن ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے، پولیس چاہے کچھ بھی کرے ہمیں آزادی ملے گی۔ پولیس کے مطابق 26 فروری 2020 کو جگت پوری میں پولیس پر نہ صرف پتھراو ¿ کیا گیا بلکہ گولیاں بھی چلائی گئیں۔
یو اے پی اے کے تحت درج اس معاملے میں 18 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ اس کیس میں صفورا زرگر، طاہر حسین، عمر خالد، خالد سیفی، عشرت جہاں، میران حیدر، گلفشاں، شفا الرحما ن، آصف اقبال تنہا، شاداب احمد، تسلیم احمد، سلیم ملک، محمد سلیم خان، اطہر خان، شرجیل امام، فیضان خان ، نتاشا نروال اور دیوان کلیتا کو فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ ان میں سے عشرت جہاں، صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگن کلیتا، نتاشا نروال، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کی ضمانتیں منظور کر لی گئی ہیں

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *