
میٹنگ میں موجود متولیان نےانتظامیہ کے سامنے اپنے اپنے اداروں کے مسائل پیش کیے
سی ای او تنویر احمد کا میٹنگ میں شریک نہیں ہونا انتہائی افسوسناک عمل ہے :محمد شاہد گنگوہی
انتظامیہ کی جانب سے تمام متولیان کو مختلف ضرو ری فارم پ ±ر کرکے جمع کرانے کی ہدا یت دی
دہلی وقف بورڈ کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کے حوالے سے ضروری معلومات فراہم کیں
نئی دہلی، 18 جون(میرا وطن نیوز )
دہلی کے مختلف علاقوں سے تقریباً 150 مساجد، قبرستانوں اور دیگر وقف جائیدادوں کے متولی دہلی وقف بورڈ کے دفتر دریا گنج میں منعقدہ ایک اہم میٹنگ میں شرکت کے لیے پہنچے۔ اس میٹنگ کا مقصد وقف املاک کے انتظام، متولیان کے مسائل اور مختلف انتظامی امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ میٹنگ میں شریک متولیان نے آغاز ہی میں انتظامات کی کمی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ شرکا ءکے مطابق بڑی تعداد میں آنے والے متولیان کے لیے مناسب نشستوں کا انتظام موجود نہیں تھا۔ ا س کے علاوہ پبلک ایڈریس سسٹم (مائیک اور ساو ¿نڈ سسٹم) بھی دستیاب نہیں تھا، جس کی وجہ سے دور بیٹھے ہوئے افراد کو مقررین کی گفتگو سننے میں دشواری پیش آئی۔
میٹنگ سے دہلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر محمد اسحاق نے خطاب کیا۔ انہوں نے متولیان کو مختلف ضرو ری فارم پ ±ر کرکے جمع کرانے کی ہدا یت دی اور وقف بورڈ کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کے حوالے سے ضروری معلومات فراہم کیں۔
اس موقع پر سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے میٹنگ کے ناقص انتظامات اور اعلیٰ افسر ان کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف سے وابستہ متولیان کے مسائل، تجا ویز اور شکایات سننے کے لیے یہ میٹنگ نہایت اہم تھی، لیکن دہلی وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) تنویر احمد کا اس اہم اجلاس میں شریک نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔
محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ اگر وقف بورڈ واقعی زمینی سطح پر کام کرنے والے متولیان کے مسائل حل کرنا چا ہتا ہے تو ایسے اہم پروگراموں میں سینئر افسران کی موجودگی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ متو لیان وقف املاک کے حقیقی نگہبان ہیں اور ان کے مسائل اور تجاویز کو سنجیدگی کے ساتھ سنا جانا ضرو ری ہے
No Comments: