
شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پہلے توسیعی خطبہ کا انعقاد
نئی دہلی ،25اگست (میرا وطن نیوز )
’اسلامی علمی روایات میں مذاہب کے مطالعے کا قدیم اور متنوع علمی سلسلہ موجود رہا ہے، جس میں مذ ہبی افکار و تصورات کی تفہیم کے لیے قرآن و حدیث، فقہ، علمِ کلام، فلسفہ، تصوف اور مِلَل و نِحَل سمیت مختلف علمی مناہج سے استفادہ کیا گیا ہے،نیز ابن حزم، شہرستانی اور ابوریحان بیرونی جیسے جلیل القدر علما ءنے مختلف مذاہب و فرق کے منظم، تقابلی اور تنقیدی مطالعے کے ذریعے اس علمی سلسلے کو مزید و سعت اور استحکام بخشاہے۔’ان خیالات کا اظہار پروفیسر امتیاز یوسف، انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی، ملیشیا نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ اور مرکز برائے مطالعات و تحقیق(سی ایس آر)،نئی دہلی کے مشترکہ تعاون سے منعقد پہلے توسیعی خطبے بہ عنوان ’اسلامک اسٹڈیز اور تقابلی ادیان‘ کے دوران کیا۔
پروفیسر سید شاہد علی،سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے اپنے صدراتی خطاب میں کہا کہ مذہب کا بنیادی مقصد انسان کو خود شناسی کی راہ دکھانا ہے اور انسان اپنے وجود، مقصدِ حیات اور اپنے پروردگار کے ساتھ تعلق کو پہچان کر زندگی کی حقیقی معنویت سے آشنا ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں انسانی زندگی کا مطالعہ محض دنیاوی وجود تک محدود نہیں رہتا، بلکہ انسان کی تخلیق، اس کی ذمہ داری، دنیا میں اس کے مقام اور آخرت میں اس کے انجام کو ایک مربوط حقیقت کے طور پر سامنے لاتا ہے۔
پروگرام کا آغاز شعبہ کے ریسرچ اسکالر محمد حمزہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوااورمہمان مقرر اور سی ایس آرکا تعارف ڈاکٹر محمد رضوان،ڈائریکٹر مرکز برائے مطالعات و تحقیق نے کرایا۔ نظامت کے فرائض توسیعی خطبات کے انچارج ڈاکٹر محمد خالد خان،ایسوسی ایٹ پروفیسر،شعبہ اسلامک اسٹڈیزنے انجام دیے۔
آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔اس موقع پر شعبہ کے جملہ اساتذہ جناب جنید حارث،ڈاکٹر محمد مشتاق، ڈاکٹر محمد ارشد،ڈاکٹر محمد عمر فاروق،ڈاکٹر خورشید آفاق،ڈاکٹر عبدالوارث خان،ڈاکٹر جاوید اختر،ڈاکٹر انیس الرحمان،ڈاکٹر محمد اسامہ،ڈاکٹر محمد مسیح اللہ،ڈاکٹر ندیم سحر عنبریں ،ڈاکٹر اویس منظور ڈاراورڈاکٹر محمد اشرف الکوثرکے علاوہ ریسرچ اسکالرس، ایم اے اور بی اے کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
No Comments: