Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی اداروں کے پولیس سروے پر اے پی سی آر نے کی وضاحت طلب

نئی دہلی، 12 اگست (میرا وطن نیوز )
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے مغربی بنگال چیپٹر نے ریاست کے مختلف علاقوں میں مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور مزارات کی انتظامیہ کو مبینہ طور پر فراہم کیے جانے والے سروے فارمس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مغربی بنگال سرکاراور پولیس سے ان کی قانونی حیثیت، مقصد اور اختیار کے بارے میں واضح اور عوامی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
اے پی سی آر کے مطابق، اس کے پاس دستیاب سروے فارمس میں متعلقہ مذہبی اداروں کے انتظامی ڈھانچے اور حیثیت سے متعلق متعدد معلومات طلب کی گئی ہیں۔ ان میں ادارے کی مذہبی وابستگی، ز مین کی ملکیت، مالی وسائل اور فنڈنگ، غیر ملکی زائرین یا طلبہ کی آمد، ماضی کے مقدمات، ایف آئی آر اور چارج شیٹس کے علاوہ بعض سیاسی یا تنظیمی نوعیت کی معلومات بھی شامل ہیں۔
اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ مذہبی اداروں سے اس نوعیت کی حساس معلومات کا حصول ایک سنجیدہ انتظا می اور قانونی معاملہ ہے۔ ایسی کوئی بھی کارروائی واضح، قابلِ شناخت اور باقاعدہ سرکاری حکم، مجاز اتھا ر ٹی اور متعین قانونی دائرہ کار کے تحت ہونی چاہیے، تاکہ متعلقہ اداروں کو یہ معلوم ہو کہ معلومات کس اختیار کے تحت، کس مقصد کے لیے اور کس قانونی بنیاد پر طلب کی جا رہی ہیں۔
تنظیم کے مطابق، اس وقت اس کے پاس موجود فارمس میں کسی واضح حکومتی نوٹیفکیشن، میمو نمبر، تاریخ، جاری کرنے والی اتھارٹی یا مخصوص قانونی شق کا حوالہ نمایاں طور پر موجود نہیں ہے۔ اس صورتِحال میں اے پی سی آر نے ایک بنیادی اور جائز سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ فارم کسی سرکاری یا پولیس حکم کے تحت جا ری کیے گئے ہیں تو متعلقہ حکم نامہ متعلقہ مذہبی اداروں اور عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھا گیا؟
اے پی سی آر نے خاص طور پر ان سوالات پر تشویش ظاہر کی ہے جن میں مساجد اور دیگر مذہبی اداروں کی مذہبی یا مسلکی وابستگی سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکام کو واضح کرنا چا ہیے کہ ایسی معلومات حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے، یہ معلومات سروے کے مبینہ انتظامی مقصد سے کس طرح متعلق ہیں اور ان کا استعمال کس قانونی و انتظامی ضرورت کے تحت کیا جائے گا۔
اے پی سی آر نے اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ محکمہ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم، مغربی بنگال کی جانب سے شروع کیا گیا ریاست گیر مدرسہ سروے ایک الگ معاملہ ہے۔ کسی مجاز سرکاری محکمے کی جانب سے منظور شدہ مدرسہ سروے کا وجود، بذاتِ خود، پولیس یا کسی دوسرے ادارے کے ذریعے الگ نوعیت کے فارم جاری کرنے یا اضافی اور حساس معلومات جمع کرنے کے اختیار کا ثبوت نہیں بن سکتا۔ ہر الگ سروے یا معلومات جمع کرنے کی کارروائی کی اپنی واضح قانونی اور انتظامی بنیاد ہونی چاہیے۔
اے پی سی آر نے مغربی بنگال حکومت اور مغربی بنگال پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی طور پر واضح کریں کہ :یہ سروے فارم کس سرکاری یا پولیس اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں؟ان کے اجرا کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا ہے؟مذہبی اداروں سے یہ معلومات کس مخصوص مقصد کے لیے طلب کی جا رہی ہیں؟ اورجمع کی جانے والی معلومات تک کن حکام یا اداروں کو رسائی حاصل ہوگی، انہیں کس طریقے سے محفوظ رکھا جائے گا اور مستقبل میں ان کا استعمال کس ضابطے کے تحت کیا جائے گا؟
اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ حساس معلومات کے جمع کیے جانے کی صورت میں ڈیٹا کی رازداری، تحفظ، رسائی، استعمال اور ممکنہ اشتراک کے حوالے سے بھی واضح ضابطہ اور جواب دہی کا نظام موجود ہونا ضروری ہے۔
اے پی سی آر نے واضح کیا کہ وہ مذہبی اداروں کی قانونی انتظامی جانچ، ریکارڈ کی درستگی یا حقیقی اور جائز سرکاری تصدیقی کارروائی کے خلاف نہیں ہے۔ تاہم، ایسی تمام کارروائیاں شفاف، قانونی، متناسب اور غیر امتیازی ہونی چاہئیں اور ان کا مقصد کسی مخصوص مذہبی برادری کی نگرانی، پروفائلنگ یا انتخابی بنیاد پر نشانہ بنانا نہیں ہونا چاہیے۔
تنظیم نے کہا کہ قانون کے تحت ہونے والی جائز انتظامی کارروائی اور غیر واضح اختیار کے تحت حساس معلومات کے حصول کے درمیان واضح فرق برقرار رہنا چاہیے۔ حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کو مطلوبہ معلومات کے حصول کی قانونی بنیاد، مقصد اور طریق? کار سے آگاہ کریں۔
اے پی سی آر نے پریس کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ:”اگر یہ ایک سرکاری سروے ہے تو متعلقہ حکومتی حکم نامہ عوام کے سامنے لایا جائے۔ اگر یہ پولیس کی جانب سے شروع کیا گیا اقدام ہے تو حکام واضح طور پر بتائیں کہ یہ کس قانون یا مجاز اختیار کے تحت اور کس مخصوص مقصد کے لیے مذہبی اداروں سے حساس معلومات حاصل کر رہا ہے۔اے پی سی آر نے مغربی بنگال حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر جلد از جلد باضابطہ وضاحت جاری کریں، تاکہ مذہبی اداروں، ان کی انتظامیہ اور عوام میں موجود خدشات کا ازالہ ہو اور کسی بھی سرکاری یا پولیس کارروائی کے بارے میں شفافیت، قانونی جواز اور عوامی اعتماد برقرار رہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *