Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مذہبی آزادی کے نام پر مہاراشٹر کا قانون خود مذہبی آزادی کا دشمن

عدالتوں کو قانونی ڈھانچے، پس پشت اکثریتی سوچ کے حامل مقاصد اور غلط استعمال کا جلد جائزہ لینا چاہیے:مولانا محمود اسعد مدنی

نئی دہلی 21 اگست (میرا وطن نیوز )
جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026 کے نافذ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی متعدد دفعات شہریوں کی آزادی ضمیر، مذہبی آزادی، پرائیویسی اور شخصی خود اختیاری کے آئینی تحفظات سے متصادم ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ بھارت کی طاقت اس کی گوناگوں مذہبی اور تہذیبی شناخت میں ہے۔ آئین میں دی گئی مذ ہبی آزادی ہر شہری کے لیے ہے۔ اگر کوئی شہری اپنے مذہب کا آزادانہ انتخاب نہیں کر سکتا تو آئین کی دفعہ 52بے معنی ہوجاتی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ مہاراشٹر نے اس قانون کے ذریعے اتر پردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش ماڈل کو اختیار کیا ہے جنہیں جمعیت علماءہندپہلے ہی سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کر چکی ہے۔ ہمارا بنیاد ی موقف یہ ہے کہ (Allurement) اور (Fraudulent) جیسی مبہم اصطلاحات کو قانون کا حصہ بنانے کے نتیجے میں مذہب کی پ ±رامن تبلیغ کو بھی جرم کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح اہل ایمان کےلیے اخروی فلاح و نجات کی تعلیم کو بھی ’لالچ ‘کے زمرے میں رکھا گیا ہے جوآئین ہند کی دفعہ ۲۵ میں حاصل ’حق تبلیغ ‘ کو برا ہ راست کالعدم کردیتا ہے۔ نیز تجربے سے یہ ثابت ہے کہ اس قانون کی آڑ میں اندھا دھند لوگوں کو جیلوں میں بند جارہا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کو یہ آئینی اختیا ر حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی شہری کے نجی ضمیر اور مذہبی انتخاب کی نگراں اور محتسب بن جائے۔
گزشتہ سال سپریم کورٹ نے پہلے بھی اس امر پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ مذہب کی تبدیلی سے قبل لاز می اعلان، پولیس انکوائری اور ذاتی معلومات کو منظرِ عام پر لانے کے جیسی شرائط فرد کی شخصی آزادی پر غیر ضروری اور غیر معمولی بوجھ عائد کرتی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں تبدیلی مذہب مخالف قوانین کے تجربے کی روشنی میں عدالتوں اور جمہوری اداروں کو صرف ان قوانین کے بیان کردہ مقاصد ہی نہیں بلکہ ان کے قانونی ڈھانچے، پسِ پشت اکثریتی سوچ کے حامل مقاصد اور ہورہے غلط استعمال کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیت علماءہند کسی بھی ایسی حقیقی کوشش کی مخالف نہیں ہے جس کا مقصد جبر، دھوکہ دہی یا جبری تبدیلی مذہب کو روکنا ہو، لیکن مذہبی ا?زادی کے تحفظ کے نام پر بنایا گیا کوئی قانو ن خود اسی آزادی کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا،نیز اسے ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف سزا کا بھی ہتھیار نہیں بنایا جاسکتا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *