Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

تاریخی طبیہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے: ڈاکٹر سید احمد خان

`دہلی بھارتیہ چکتسا پریشد کی تشکیل جلد کی جائے: طبی کانگریس دہلی

نئی دہلی،11 اگست (میرا وطن نیوز )
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس دہلی اسٹیٹ کی ایک اہم میٹنگ میں تنظیم ہذا کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے خطاب میں کہا کہ یونانی طب کے فوائد عوام کو زمینی سطح پر مسلسل پہنچانے اور اس شعبے میں تعلیم و تحقیق کو فروغ دینے کے لیے تاریخی طبیہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طب یونانی صدیوں سے رائج سائنٹفک طریقہ علاج ہے اور اس کا فائدہ زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچتا رہے، اسی مقصد کے تحت اس عظیم ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ اس طبیہ کالج کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لیے تقریباً تمام بنیادی سہو لیات اور وسائل پہلے سے موجود ہیں۔ صرف حکومت کی جانب سے سنجیدہ اور عملی کوشش کی ضرور ت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں کوئی بڑا مالیاتی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ طبیہ کالج کے پاس 25 ایکڑ سے زائد اراضی موجود ہے، جو ایک یونیورسٹی کے قیام کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی کالج میں پہلے ہی سے آیوروید اور یونانی کی دو فیکلٹیز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ریجمنل تھراپی کی فیکلٹی بھی قائم کی جاسکتی ہے، جبکہ دیگر تقریباً 14 شعبوں کو مرحلہ وار ترقی دے کر یونیورسٹی کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جاسکتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ طبیہ کالج ہندوستان میں آیوروید اور طب یونانی کے فروغ کے حوالے سے انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کی تاریخی حیثیت، وسیع اراضی اور پہلے سے موجود تعلیمی و طبی ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے اسے مزید ترقی دینے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سید احمد خاں نے مزید کہا کہ اگر سرکار سنجیدگی سے کوشش کرے تو اس طبیہ کالج کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کے ذریعے اعلیٰ طبی تعلیم، تحقیق، علاج اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ یونانی و آیورویدک طب کو فروغ دیا جاسکتا ہے اور عوام کو قدرتی طریقہ علاج کی سہولت بڑے پیمانے پر فراہم کی جاسکتی ہے۔ میٹنگ کی صدارت ڈاکٹر شکیل احمد نے کی۔ میٹنگ میں اتفاق رائے سے سرکارسے مطالبہ کیا گیا کہ آیورویدک اینڈ یونانی طبیہ کالج کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیور سٹی کا درجہ دینے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر دہلی بھارتیہ چکتسا پریشد (ڈی بی سی پی)کی تشکیل کا مطالبہ دہرایا گیا۔ واضح ہو کہ گزشتہ تقر یباً دس سال سے ڈی بی سی پی تحلیل ہے جس کی وجہ سے آیوروید اور یونانی ڈاکٹروں کو مختلف نوعیت کی مشکلا ت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ممتاز مجاہد آزادی مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے قائم کردہ ہند وستا نی دواخانہ کو دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ عوام کو مناسب قیمت کی معیاری دوائیں دستیاب ہوسکیں۔
میٹنگ میں اظہار خیال کرنے والوں میں ڈاکٹر احسان احمد صدیقی، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی، ڈاکٹر فیضان احمد صدیقی، ڈاکٹر شمس الدین آزاد، ڈاکٹر فہیم ملک اور ایڈووکیٹ شاہ جبیں قاضی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ تمام شرکاءکا شکریہ ڈاکٹر خورشید عالم نے ادا کیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *