
نئی دہلی، 16 مئی(میرا وطن نیوز)
دینی تعلیمی بورڈ جمعیة علماءد صوبہ دہلی کی مجلس عاملہ کا تیسرا اہم اجلاس بروز جمعرات مسجد مہندیان، جامعہ رحیمیہ نزد آستانہ خاندان شاہ ولی اللہ منعقد ہوا، جس میں صوبہ بھر سے ارکان و مدعوئین خصوصی نے شر کت کی۔ اجلاس میں دینی تعلیم کے فروغ، نئی نسل کے ایمان و عقائد کے تحفظ، خواتین کی دینی تربیت، اور مکاتب کے منظم و فعال نظام کے قیام پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کی صدارت مولانا اخلاق قاسمی صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیت علماءصوبہ دہلی نے کی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے ناظم عمومی جمعیت علماءہند مولانا حکیم الدین شریک ہوئے۔ اس موقع پر حافظ سید عاصم عبداللہ جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ صوبہ کرناٹک اور مولانا قاسم نوری صدر جمعیت علماءصوبہ دہلی بھی موجود تھے۔
اجلاس میں دینی تعلیمی بورڈ کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، یونٹوں کی تشکیل، ڈیٹا کلیکشن کے منظم نظام، انعامی پروگرام اور مکاتب کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مہمان خصوصی حافظ سید عاصم عبداللہ کرناٹک نے آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئےان امور کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔اجلاس میں خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کے پیشِ نظر مکاتب بالغان برائے خواتین کی توسیع کا اہم فیصلہ لیا گیا۔ اس کے تحت مختلف علاقوں میں ہفتہ واری مکاتب قائم کیے جائیں گے، جہاں سلجھی ہوئی اور باصلاحیت معلمات کی نگرانی میں درسِ قرآن، درسِ حدیث اور بنیادی دینی تعلیم کا اہتمام کیا جائے گا۔
اس موقع پر مختلف علاقوں کے علماءاور ذمہ داران نے اپنے اپنے علاقوں میں ہفتہ واری مکاتب قائم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔مرکزی صوبائی امتحان اور انعامی پروگرام کے نظام کو مزید مو ¿ثر اور منظم بنانے کے لیے بھی متعدد اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ فیصلہ کیا گیا کہ امتحان سے قبل ممتحنین، ممتحنات اور منتظمین کے لیے خصوصی تربیتی ورک شاپ منعقد کیا جائے گا تاکہ امتحانی طریق کار اور بچوں کی نفسیا ت سے متعلق بہتر رہنمائی فراہم کی جاسکے۔ اجلاس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے سائیکل، طالبات کے لیے سلائی مشین، جبکہ دیگر نمایاں طلبہ کے لیے ٹرالی بیگ اور دیوار گھڑی بطو ر انعام دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ان انعامات پر دینی تعلیمی بورڈ اور جمعیت کا لوگو درج کیا جائے گا۔
انعامی پروگرام کے انتظام و انصرام کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے کنوینر قاری عبد السمیع مقرر کیے گئے۔ کمیٹی میں مولانا اخلاق قاسمی، مولانا قاسم نوری ، مولانا آفتاب عالم صدیقی ، مفتی گلزار ، مفتی ثاقب ، بھائی مطلوب ، مولانا آصف محمود ، مفتی نثار ، قاری احرار، مفتی حسام الدین، مفتی محسن اور مولانا گلفام شامل ہیں۔ اسی طرح چاروں زون میں یونٹوں کی تشکیل مکمل کرنے اور ورکنگ کمیٹی میں نئے ارکان کو شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جن میں مولانا خلیل، قاری عارف ، مفتی شوقین ،اسد میاں ،مفتی حسام الدین شامل ہیں۔اجلاس میں سمر کیمپ 2026 کے انعقاد پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ 20 مئی سے 35 روزہ سمر کیمپ شروع کیا جائے گا، جس میں روزانہ تین گھنٹے بچو ں کی دینی، اخلاقی اور تربیتی سرگرمیوں کا اہتمام ہوگا ۔ سمر کیمپ کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے کنوینر مولانا گلفام مقرر ہوئے۔اس کمیٹی میں مولانا افتاب، مفتی حسام الدین، مفتی کفیل اورمفتی فخر الزماں شامل ہیں۔
اجلاس میں’تدریب المعلمین ورک شاپ‘کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا، جو 21 جون 2026 بروز اتوار مرکزی دفتر آئی ٹی او میں منعقد ہوگا۔ اس ورک شاپ میں معلمین کی تربیت، تدریسی مہارتوں اور دینی تعلیم کے جدید تقاضوں پر خصوصی سیشن منعقد کیے جائیں گے۔ اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ صوبے کے لیے دو معاون کا تقرر عمل میں لایاجائے۔
یہ اجلاس اس معنی کر بہت نتیجہ خیز رہا کہ اہم فیصلوں کے علاوہ کئی اہم شخصیات نے اپنے خیالات کا بھی اظہار کیا ، بالخصوص اپنے کلیدی خطاب میں ناظم عمومی جمعیت علماءہند مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل فکری انتشار، اخلاقی بے راہ روی اور دینی کمزوری جیسے سنگین چیلنجز سے دوچا ر ہے، اس لیے جمعیت علماء ہند کے قدیم اور نہایت اہم شعبہ ’محاسب ایمان‘ کو دوبارہ فعال کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔
No Comments: