
مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرتی رہی پارٹیوں نے حج کمیٹی تشکیل کے متعلق کر رکھی ہے خاموشی اختیار
کانگریس ،ایس پی ،اے آئی ایم آئی ایم ،راشٹریہ جنتا دل،آپ جیسی پارٹیوں نے سرد مہری اختیارکی
عمران مسعود ،عمران پرتاپ گڑھی ،اقرا حسن ،محب اللہ ندوی ،منوج کمارجھا ،اسعد الدین اویسی ،سنجے سنگھ حج کمیٹی کی تشکیل کےلئے ایوانوںسے لے کر سڑکوں پر کریں آواز بلند:حج رضا کاروں کا مطالبہ
نئی دہلی ،20ستمبر (میرا وطن نیوز)
حج 2027کے لئے منتخب عازمین حج کے پہلے مرحلے کی ابتدائی صحت جانچ اور فٹنس سرٹیفکیٹ حصول اور حج کمیٹی میں جمع کرنے کی مدت میں توسیع کردی گئی ہے ۔مرکزی وزارت اقلیتی امورنے آئندہ وقت میں حج امور کے کاموں میں تیزی آنے کے اشارے دیے جا رہے ہیں ۔حالانکہ حکومت ہند لا کھ کوششوں کے باوجود پچھلے تقریباً 7سال سے حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نہیں کر سکی ہے ۔حالانکہ سپریم کورٹ آف انڈیا حکومت سے تین مرتبہ حج کمیٹی کی تشکیل کرنے کی ہدایت دے چکی ہے ۔لیکن عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجود حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے والی کانگریس ،ایس پی ،آر جے ڈی ،اے آئی ایم آئی ایم جیسی پارٹیاں اور اا ن کے لیڈر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل کی آواز نہیں اٹھا پا رہے ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ حج کمیٹی ایکٹ، 2002 – دفعہ 4 – کمیٹی کی تشکیل کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا کی باڈی میں کل کل 23 اراکین شامل ہوتے ہیں ۔ان میں پارلیمنٹ کے 3 اراکین،جن میں 2 اراکین کو لوک سبھا کے اسپیکر اپنے مسلم اراکین میں سے نامزد کریں گے اور ایک رکن کو راجیہ سبھا کے چیئرمین اپنے مسلم اراکین میں سے نامزد کریں گے۔ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ (ایم پی) کا عہدہ ختم ہو جاتا ہے، تو وہ کمیٹی کی رکنیت بھی کھو دے گا۔
اسی طرح منتخب شدہ 9 مسلم اراکین میں3 اراکین ان ریاستوں سے ہوں گے جہاں سے گزشتہ تین سالوں کے دوران سب سے زیادہ تعداد میں عازمین حج گئے ہوں، اور ایک ایک رکن ان زونز (علاقو ں ) سے ہوگا جن کا تعین ‘شیڈول’ میں کیا گیا ہے (اس طریقے سے جو مقرر کیا جائے)۔ کسی زون میں شامل ریاست سے ایک سے زیادہ رکن منتخب نہیں کیا جائے گا۔ 4 عہدہ پر(ایکس اوفیسیو) اراکین – جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کے حامل مرکزی سرکار کی جانب سے وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، وزارت مالیات اور وزارتِ شہری ہوا بازی (سِول ایوی ایشن) کی نمائندگی کے لیے نامزد کئے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ہی حکومت ہند کی جانب سے نامزد کردہ 7 مسلم اراکین میںدو اراکین جنہیں عوامی انتظا میہ ، مالیات، تعلیم، ثقافت یا سماجی بہبود کے شعبوں میں خصوصی مہارت/علم حاصل ہو، اور ان میں سے ایک شیعہ مسلمان ہو۔دو خواتین اراکین، جن میں سے ایک شیعہ مسلمان ہو۔ تین اراکین جنہیں اسلامی دینیا ت (تھیولوجی) اور قانون میں خصوصی مہارت/علم حاصل ہو، اور ان میں سے ایک شیعہ مسلمان ہوگا ۔بہر حال تمام زمروں کے اراکین کو لے کرحج کمیٹی آف انڈیا کی مکمل باڈی کل 23افراد پر مشتمل ہوگی ،لیکن مرکزی وزارت اقلیتی امور حج امورکے کاموں کو انجام دینے والے ادارے (حج کمیٹی ) کی تشکیل 2019 سے نہیں کر پائی ہے ۔
حج رضا کاروں نے کانگریس ، ایس پی ،اے آئی ایم آئی ایم ،آر جے ڈی ،آپ وغیرہ پارٹیوںکے سر براہوں سے ایوانوں سے لے کر سڑکوں تک حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل کی آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب ان کی پارٹیاں عوام کے دیگر مسائل کو ایوانو ں میں اٹھا سکتی ہے تب حج کمیٹی کا مدعا کیوں نہیں اٹھا سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ان پارٹیوں کو مسلمانوں کا ووٹ لینے کی ضرورت ہوتی ہے تب یہ مسلمانوں پر حق اپنا جتاتی ہیں لیکن جب ان کے مسائل کا مدعا ہوتا ہے تب کو ئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔
حج کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور راجیہ سبھا ایم پی اور کانگریس اقلیتی مورچہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی ،سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن اور مولانا محب اللہ ندوی ،آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسعد الدین اویسی ، راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھا ایم پی پروفیسر منوج کمار جھا، عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے اپنے ایوانوں میں آواز اٹھانا چا ہئے تھی لیکن وہ سرد مہری اختیار کئے ہوئے ہیں ۔حج رضا کاروں نے ان سمیت تمام لیڈروں سے حکو مت کے سامنے حج کمیٹی کی تشکیل کے لئے آواز اٹھانے اور اپنی اپنی سطح پر مرکزی وزارت اقلیتی امور اور وزارت اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو کو خط ارسال کرنے کے ساتھ ذاتی طور پر ملاقات کر نی چاہئے ۔
No Comments: