
نئی دہلی، 09 ستمبر (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی کے ہر کالج میں ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر مرکزی حکومت، دہلی حکومت اور دہلی یونیورسٹی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کی اگلی سماعت 25 ستمبر کو کرنے کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ ایک اہم عرضی ہے، لیکن عرضی گزار نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کو فریق کیوں بنایا ہے؟ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے عرضی گزار سے کہا کہ وہ یو جی سی کو فریقین کی فہرست سے خارج کریں۔یہ عرضی این ایس یو آئی کے صدر ونود جاکھڑ نے دائر کی ہے۔ 7 ستمبر کو عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے اس معاملے کی فوری سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالت نے عرضی گزار سے کہا تھا کہ ستیہ نکیتن میں پی جی والی عمارت کے منہدم ہونے کے معاملے پر 7 ستمبر کو ہی سماعت ہو چکی ہے۔ آپ کی عرضی پر 9 ستمبر کو سماعت ہوگی۔ بدھ کو مفاد عامہ کی عرضیوں کی سماعت ہوتی ہے۔ آپ عرضی داخل کر دیجیے، یہ خود بخود بدھ کے روز فہرست میں شامل ہو جائے گی۔ آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔
ستیہ نکیتن میں پی جی والی عمارت کے منہدم ہونے کے معاملے پر 7 ستمبر کو ہی سماعت ہوئی تھی۔ 7 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے دہلی میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک عمارت کے اچانک منہدم ہونے کے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرے۔ہائی کورٹ نے دہلی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔
No Comments: