
نئی دہلی، 8 ستمبر(میرا وطن نیوز)
دہلی کی پٹیالہ ہاو ¿س کورٹ نے جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں منہدم ہونے والی عمارت کے ما لک مہیش گپتا کو دو دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ کل دیررات ڈیوٹی مجسٹریٹ بھویا کرہیل نے مہیش گپتا کے والدین ہری رام گپتا اور ارملا گپتا کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔
واضح رہے کہ تینوں ملزموں کو 7 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق عمارت کا کنکشن ہری رام گپتا کے نام پر تھا اور عمارت ارملا گپتا کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ اس عمارت میں چلنے والے پی جی کا انتظا م مہیش گپتا نے کیا تھا۔ ہری رام گپتا کی عمر 81 سال ہے جبکہ ارملا گپتا 75 اور مہیش گپتا 52 سال کے ہیں۔
ہری رام گپتا ہندوستانی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ سارجنٹ ہیں۔ مہیش گپتا ہارڈ ویئر اور پینٹ کی دکان چلاتے ہیں۔ حادثے میں اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 12 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ اس سے قبل 7 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے دہلی میونسپل کارپوریشن کو اس معاملے کی اعلی سطحی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی میں بنچ نے دہلی حکومت کو اس سانحے میں پھنسے طلبا کو بچا نے کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت کی تھی۔ ہائی کورٹ نے دہلی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار اس معاملے میں ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی۔ ’ہاسٹل ڈےز بوائز پی جی‘ جہاں حادثہ پیش آیا وہ دہلی یونیورسٹی کے ساو ¿تھ کیمپس کے قریب ہے۔ اس پی جی میں تہہ خانے کے علاوہ پانچ منزلیں تھیں۔ یہ حادثہ 6 ستمبر کو دوپہر 1 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا۔
No Comments: