
نئی دہلی ،17اگست (میرا وطن نیوز)
جامعہ ملیہ اسلامیہ طلبا یونین کے سابق صدر اور کانگریس کے سینئر لیڈر بدر الدین قریشی نے کہا کہ آر ایس ایس کے اند ر بعض افراد کا مولانا محمد علی جوہر کو پاکستان کا حامی قرار دینا انتہائی قابل مذمت ہے۔ ایسا کرنا تاریخ کی پیچیدگیوں کو محض سیاسی الزام تک محدود کر دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا محمد علی جو ہر اور ان کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی ہندو ستان کی تحریک آزادی میں نمایاں شخصیت تھے۔خلا فت اور عدم تعاون کی تحریکوں کے دوران دونوں بھائیوں نے برطانوی راج کے خلاف عوام کو متحرک کیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
اس موقع پربدرالدین قریشی نے کہا کہ سیاسی مصلحت کی خاطر برطانوی راج کے خلاف آواز اٹھانے والوں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں اور اپنی جوانی قوم کے لیے وقف کرنے والوں کی قربانیوں کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستا ن کی آزادی کسی ایک مذہب، ذات یا برادری کی شراکت نہیں تھی۔ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر تما م برادریوں کے لاتعداد افراد نے ملک کی آزادی کی جنگ لڑ ی ۔اس لیے تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ مولانا محمد علی جوہر کی قربانی کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
No Comments: