
نئی دہلی، 5جولائی(میرا وطن نیوز )
ریکھا گپتا سرکارکے 650کروڑ روپے کے دوا گھوٹالے کا مرکزی ملزم راجیو رنگیلا ملک سے فرار ہو گیا ہے۔ اس بڑے انکشاف کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے بی جے پی سرکار پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح للت مودی اور وجے مالیا کو ملک سے فرار ہونے دیا گیا، اسی طرح راجیو رنگیلا کو بھی بھگا دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 2جون سے اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی)کی ایف آئی آر درج تھی او ر اس میں راجیو رنگیلا کو مرکزی ملزم بنایا گیا تھا، تو پھر ایک ماہ تک اسے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ راجیو رنگیلا کی ملی بھگت سے ہی ایکسرے مشینوں، او آر ایس، چادروں اور ادویات کی خریداری میں کروڑوں روپے کی لوٹ ہوئی۔ ایل جی بتائیں کہ جب اے سی بی ان کے ماتحت ہے تو پھر ان کی نظروں کے سا منے راجیو رنگیلا ملک سے کیسے فرار ہو گیا؟
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ راجیو رنگیلا سرکارکے اتنا قریب تھا کہ وہ ٹینڈر کی شرائط بھی خود اس انداز میں طے کرواتا تھا کہ ٹھیکہ صرف اسی کی کمپنیوں کو ملے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا، لیکن اے سی بی نے اس سازش کے ماسٹر مائنڈ راجیو رنگیلا کو گرفتار نہیں کیا۔ اے سی بی نے ڈی جی ایچ ایس اور دیگر ڈاکٹروں کو تو گرفتار کر لیا، لیکن جس شخص کو وہ خود اس گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ قرار دے رہی تھی، اسے فرار ہونے کا موقع دے دیا۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد مرکزی ملزم، جس کا پاسپورٹ اور تمام تفصیلات مرکزی سرکارکے پاس موجود تھیں، وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا؟
سوربھ بھاردواج نے ایل جی سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے کہا کہ اے سی بی ایل جی کے ماتحت کام کرتی ہے۔ ایسے میں ایل جی دہلی کے عوام کو جواب دیں اور بتائیں کہ 650کروڑ روپے کے گھوٹالے کا مرکزی ملزم اور ماسٹر مائنڈ ان کی آنکھوں کے سامنے ملک سے کیسے فرار ہو گیا
No Comments: