
یم سی ڈی ہیڈ کوارٹر پراحتجاجی دھرنا میں بڑی تعداد میں شامل ہوئیں خواتین اساتدہ
ان احتجاجی اساتذہ کو انتظامیہ کی طرف سے کوئی ٹھوس یقینی دہانی نہیں کرائی گئی ہے
نئی دہلی، 2 جولائی(میرا وطن نیوز )
دہلی میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم کے تحت اسکولوں میں تعینات بڑی تعداد میں اساتذہ نے جمعرات کو ایم سی ڈی کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا۔ ایم سی ڈی اسکولوں میں پڑھانے والے مستقل اور کنٹر یکٹ اساتذہ نے میئر کے دفتر کے باہر زبر دست احتجاج کراتے ہوئے دھرنا دیا۔ میئر نے احتجاج کرنے والے اساتذہ کو طلب کیا، ان کے تحفظات سنے اور ایڈیشنل کمشنر کو حکم دیا کہ وہ کسی بھی استاد کو ان کی رہائش گاہ کے 15 کلومیٹر کے دائرے میں کسی اسکول میں تعینات کریں۔
قابل ذکر ہے کہ یکم جولائی کو ایم سی ڈی نے اچانک اور من مانی طور پر تقریباً 1000 کنٹریکٹ اسا تذ ہ کا تبادلہ کر دیا تھا۔ تبادلوں میں اساتذہ کو ان کے گھروں سے 20 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر اسکو ل تفویض کیا گیا۔ ایک بڑی خامی یہ تھی کہ کچھ اساتذہ کو ان کے پرانے اسکولوں میں دوبارہ تعینا ت کیا گیا، حالانکہ ان کے پاس کوئی الاٹمنٹ نہیں تھا۔ ان تمام مسائل کی وجہ سے سیکڑوں کنٹریکٹ اساتذہ نے جمعرات کو میئر کے دفتر، سوک سنٹر پر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔دھرنا دے رہے اساتذہ میں زیادہ تر خوا تین ٹیچر شامل تھیں ۔
اس دوران ناراض خاتون اساتذہ کا کہنا تھا کہ ٹرانسفر میں کئی خامیاں ہیں ،ایک زون سے دوسرے زو ن میں بھیجنے سے اسکول کا فاصلہ بڑھ جانا ،خواتین ٹیچر س کو ایونگ شفٹ ملنا اور گھر سے اسکول کی دوری 30 کلو میٹر ہوجانا ۔ان اساتذہ کی صحت سے متعلق دقتیں ہیں ،بہت سے اساتذہ کے گھروں میں فیملی میں سنگین بیماری ہے ۔ان اساتذہ کا کہنا تھا کہبچوں کو پڑھانے کے ساتھ ان سے کئی طرح کے سرکاری کام کرائے جا رہے ہیں ۔اب بیس سے تیس کلو میٹر ٹرانسفر ہوجانے پر ان کے گھر کا ہی نظام بگڑ جائے گا کیونکہ ان میں کئی اساتذہ کے چھوٹے بچے ہیں ۔
حالانکہ میئر پرویش واہی ،ایوان لیڈر جے بھگوان اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئر پرسن ستیہ شرما کے علاوہ ایڈ یشنل کمشنر سنجیو متتل نے کا موقف ہے کہ اساتذہ کے مسائل سے وہ واقف ہیں لیکن انتظامیہ کو اسکولوں میں بیلنس بنا نا ہے ،اسی نقط نظر سے جہاں اساتذہ کی ضرورت ہے ٹرانسفر کیا گیا ہے تاکہ تمام اسکولوں کے طلبا ءکویکساں تعلیم مہیا ہوسکے ۔حالانکہ انتظامیہ نے یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن اساتذہ کے حق میں کوئی ٹھوس نتیجہ نکلے گا ،آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔
No Comments: