
نئی دہلی ،9جون (میرا وطن نیوز )
اردو زبان و ادب کے معروف ادیب، نقاد اور دانشور نارنگ ساقی کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے عہدیداران اور وابستگان نے ان کی ادبی خدما ت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے اردو دنیا کا ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ غالب انسٹی ٹیو ٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا نارنگ ساقی اردو ادب کی ایک معتبر اور باوقار شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی اور تنقیدی کاوشوں کے ذریعے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کا انتقال اردو دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ہم ان کے اہلِ خانہ اور چاہنے والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا نارنگ ساقی ایک صاحبِ فکر و نظر ادیب تھے جن کی علمی اور ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی تحریروں میں فکری گہرائی، ادبی بصیرت اور عصری شعور نمایاں تھا۔ ان کی رحلت سے اردو ادب ایک اہم آواز سے محروم ہوگیا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ ان کے انتقال پر دلی تعزیت پیش کرتا ہے اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے تمام اراکین نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہو ئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کا ادبی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔
No Comments: