
نئی دہلی، 6 جون (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے بار کونسل آف دہلی (بی سی ڈی) کے لیے دوبارہ انتخابات کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس انیل چھیتر پال کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ مبینہ بے ضابطگیوں اور بیلٹ پیپرز سے چھیڑ چھاڑ کی شکایات کے باوجود عدالت دوبارہ انتخابات کا حکم نہیں دے گی۔ عدالت نے ووٹوں کی گنتی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا اور دوبارہ گنتی وہیں سے شروع کی جائے گی جہاں سے روکی گئی تھی۔
عدالت نے کہا کہ صرف چند بیلٹ پیپرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی شکایات کی بنیاد پر نئے انتخابات کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے بیلٹ پیپرز جو مٹانے، اوور رائٹنگ، تصحیح یا اضافے پر مشتمل پائے گئے انہیں الگ کر کے مشکوک بیلٹ پیپرز کے لیبل والے پیکٹ میں رکھا جائے۔ ان مشکوک بیلٹس کو اسسٹنٹ جنرل کونسل کے سامنے لایا جانا چاہیے، جو فیصلہ کرے گا کہ ان کی گنتی کیسے کی جائے۔ اے ایس جی ان معاملات پر حتمی فیصلہ کرے گا۔
عدالت نے کہا کہ پہلی ترجیح کے ووٹوں کی گنتی کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ موصول ہونے والی بے ضابطگیوں کی شکایات میں پہلی ترجیح کے ووٹ شامل نہیں تھے۔ عدالت نے کہا کہ گنتی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بیلٹ پیپرز کو سیل بند اسٹوریج میں رکھا جائے گا، ہائی ریزولوشن کیمروں اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مسلسل نگرانی کی جائے گی اور براہ راست نشریات فراہم کی جائیں گی۔ مزید برآں، گنتی کے عملے کی سختی سے تصدیق کی جانی چاہیے۔
متعدد امیدواروں نے گنتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کی شکایت کرتے ہوئے درخواستیں دائر کی تھیں۔ اس سے پہلے 18 مئی کو سپریم کورٹ نے بی سی ڈی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی پر روک لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو دہلی ہائی کورٹ کو بھیج دیا، جس نے اس معاملے کی سماعت کی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملے کے موثر حل کے لیے اصل ریکارڈ اور بیلٹ پیپرز کی جانچ کی ضرور ت ہوگی، جس سے دہلی ہائی کورٹ کے لیے اس کیس کی سماعت کرنا مناسب ہوگا۔ بی سی ڈی کے انتخا با ت 21، 22 اور 23 فروری کو ہوئے تھے۔ گنتی 7 اپریل کو شروع ہوئی۔ 221 امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا
No Comments: