Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مالویہ نگر ریسٹورینٹ کے ددرد ناک حادثے کو لے کر مختلف لیڈروں نے تشویش ظاہرکی

اپوزیشن انکش نارنگ نے میونسپل کمشنر کو خط لکھر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا

ہوٹل آتشزدگی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے: مکیش گوئل
میئر کا میونسپل کمشنر کو خط، تین دن کے اندر انکوائری اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کا سانحہ کی جگہ کا دورہ نہ کرنا سراسر بے حسی ہے:دیویندر یادو
آپ سرکارکی مدت سے عمارت میں غیر قانونی ہوٹل کے طور پر چلایا جا رہا تھا:ہرش ملہوترا

نئی دہلی، 3 جون،(میرا وطن نیوز )
جنوبی دہلی کے مالویہ نگر میں واقع ریسٹورنٹ میں پیش آئے دردناک واقعے کو لے کر دہلی سرکار ،ایم سی ڈی کے ساتھ عام آدمی پارٹی ،کانگریس ،بی جے پی اورآئی وائی پی پارٹیوں کے رہنماﺅں نے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے غیر قانونی طور سے چلائے جا رہے ریسٹورنٹ کو لے کر ایک دوسرے پر سوال بھی اٹھائے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی ملہوکین کے خاندانوں کو معاوضہ اور زخمیوں علاج اور قصور واروں کے خلاف سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور ایم سی ڈی میں اپوزیشن لیڈر انکش نارنگ نے بدھ کو میونسپل کمشنر کو خط لکھ کر ساکیت عمارت گرنے کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اپنے خط میں، انہوں نے کہا کہ قصوروار اہلکاروں کی جوابدہی طے کی جانی چاہیے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چا ہیے، متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جانا چاہیے اور دہلی بھر میں خستہ حال اور غیر قانونی عمارتوں کا جامع سروے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ساکیت عمارت کا گرنا محض ایک حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی کے افسران کے درمیان بدعنوانی، لاپرواہی اور ملی بھگت کا براہ راست نتیجہ ہے۔
اندرا پرستھ وکاس پارٹی (آئی وی پی) کے رہنما اور سینئر میونسپل کونسلر مکیش گوئل نے ہوٹل میں آگ لگنے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میئر پرویش واہی، میونسپل کمشنر سنجیو کھیروار اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا پر زور دیا ہے کہ وہ اس سانحہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ دہلی بھر میں آگ لگنے اور عمارت گرنے کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دہلی کے معصوم باشندوں کو جان و مال دونوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ غیر قانونی تعمیرات اور غیر مجاز تجارتی سرگرمیوں کو روکنے پر بروقت توجہ دی جائے تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے مالویہ نگر کے حوز رانی میں آتشزدگی کے سانحہ کی جگہ کا ذاتی طور پر دورہ کیا۔ لیمن گرین ریسٹورنٹ میں آگ لگنے سے 21 افراد کے جاں بحق اور تین درجن سے زائد ز خمی ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک سرکار، ایم سی ڈی، ڈی ڈی اے، فائر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات کے پھیلاو ¿ کو ختم نہیں کیا جاتا، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔ انہوں نے شد ید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کا سانحہ کی جگہ کا دورہ نہ کرنا سراسر بے حسی ہے۔
دہلی بی جے پی کے صدر اور ایم پی ہرش ملہوترا نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ 2024 میں عام آدمی پارٹی سرکارکے دور میں ایک پوری عمارت کو ایک غیر قانونی ہوٹل کے طور پر چلایا جا رہا تھا جبکہ ’بیڈ اینڈ بریک فاسٹ‘ لائسنس صرف چھ کمروں کے لیے درست تھا۔ مزید برآں، دہلی میں اس وقت کی حکمران آپ سرکار کی انتظامیہ کے تحت، اسٹیبلشمنٹ کو ایک اعلیٰ صلاحیت والا بجلی کا میٹر بھی دیا گیا تھا، ج کہ اس کے فائر سیفٹی این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) کی تصدیق بھی نہیں ہوئی تھی۔ ہرش ملہوترا نے بتایا کہ دہلی کے وزیر آشیش سود نے مقامی ایم ایل اے ستیش اپادھیائے کے ساتھ آج صبح حوز رانی کا دورہ کیا۔ ان کی رپورٹ کی بنیاد پروزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے فوری طور پر نہ صرف حوز رانی بلکہ پورے دہلی شہر میں ہوٹلوں، موٹلز اور اسی طرح کے اداروں کے معائنے کا حکم دیا ہے۔ اگر کوئی ادا رہ کسی ایک ریگولیٹری معیار میں بھی ناقص پایا گیا تو اس کی بجلی کی سپلائی فوری طور پر منقطع کر دی جائے گی اور ہوٹل کو بند کر دیا جائے گا۔
ا سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرپرسن ستیہ شرما نے مالویہ نگر میں واقع ایک ہوٹل میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد میونسپل کمشنر سنجیو کھیروار ، ساﺅتھ زون کے ڈی سی را کیش کمار اور سینئر افسران کے ساتھ جائے وقوع کا دورہ کیا۔انہوںنے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے اور تمام پہلو و ¿ں کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمارت کی عمر، ملکیت، لائسنس کی حیثیت، اور فائر سیفٹی کے معیارات کی تعمیل سے متعلق تمام تفصیلات فی الحال جمع کی جا رہی ہیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *