Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی : پرسنل لا بورڈ

اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لیا جائے، یا کم از کم مسلم طلبا و طالبات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے

نئی دہلی: 2 جون (میرا وطن نیوز )
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ریاست کے سرکاری اسکولوں اور سرکار سے تسلیم شدہ دینی مدارس میں طلبا و طالبات کے لیے صبح کی اسمبلی میں وندے ماترم کے تمام بندوں کی قرائت کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لیا جائے، یا کم از کم مسلم طلبا و طالبات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ کسی بھی طالب علم کو اس کے مذہبی عقائد کے خلاف کوئی کلمہ یا نغمہ پڑھنے پر مجبور کرنا نہ صرف دستور ہند کے بنیادی حقوق، بالخصو ص آرٹیکل 19، 25 اور 28(3) کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے Bijoe Emmanuel v. State of Kerala کے بھی منافی ہے، جس میں عدالت عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ کسی شہری کو اس کے مذہبی یا ضمیری عقائد کے خلاف کسی قومی یا مذہبی نوعیت کی تقریب میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ وندے ماترم کے بعض بند ایسے تصورات پر مشتمل ہیں جنہیں مسلمان اپنے عقیدہ? توحید کے منافی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کسی مسلما ن طالب علم کو اسے پڑھنے پر مجبور کرنا اس کے مذہبی تشخص اور دستوری حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر ریاست کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی ایک مذہبی یا ثقافتی روایت کو دوسرے مذہبی گروہوں پر زبردستی مسلط نہ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کے بعد سے آج تک مرکزی سرکار نے بھی وندے ماترم کو ملک کے تعلیمی اداروں میں لازمی قرار نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو ہمیشہ شہریوں کے ضمیر، مذہبی آزادی اور شخصی انتخاب کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے دستور ہند کی دفعہ 28(3) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے زیر انتظام یا ریاستی امداد یافتہ تعلیمی اداروں میں کسی بھی طالب علم کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی عبادت یا مذہبی نوعیت کی تقریب میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ اس کی آزادانہ رضامندی شامل نہ ہو۔ لہٰذا ریاستی سرکار کا یہ فیصلہ نہ صرف آئینی روح کے خلاف ہے بلکہ ملک کی سیکولر اور جمہوری روایات سے بھی متصادم ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مغربی بنگال کے مسلم طلبا، والدین اور اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دستوری اور قانونی حقوق سے آگاہ رہیں اور اگر کسی بھی سطح پر انہیں جبر یا دباﺅ کے ذریعہ وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جائے تو وہ دستور ہند کے بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کریں۔
بورڈ نے مغربی بنگال سرکار کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ریاست کے تمام شہریوں کے مذہبی حقوق، ثقافتی شنا خت اور دستوری آزادیوں کا احترام کرے۔ ہندوستان ایک سیکولر اور کثرت پسند جمہوریہ ہے جہاں ہر مذہبی گروہ کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ کسی بھی سرکاری اقدام کو اس بنیادی اصول کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *