
نئی دہلی، یکم جون(میرا وطن نیوز )
کشمیر سے کنیا کماری تک مہینوں کے مسلسل مظاہروں کے بعدانڈین یوتھ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ملک گیر تحریک کو مزید تیز کرے گی۔آئی وائی سی کو کہنا ہے کہ NEET اور CUET سے لے کر CBSE اور SSC-GD امتحانات تک، ملک بھر کے طلباءکو پیپر لیک ہونے، انتظامی ناکا میو ں، امتحان میں بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے الزامات کی وجہ سے بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
آئی وائی سی کا دعویٰ ہے کہ دھرمیندر پردھان نہ صرف ہندوستان کے تعلیمی نظام کے وقار کو بر قر ار رکھنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ اس کے مسلسل زوال کو بھی فعال طور پر سہولت فراہم کر رہے ہیں ۔ تنظیم نے ان رپورٹس پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ مشکوک اور بلیک لسٹ شدہ ادار وں کو ٹھیکے دیے جا رہے ہیں- ایک ایسا عمل جو امتحانات کے انعقاد کے لیے ذمہ دار اداروں پر عوام کے اعتماد کو مزید ختم کر رہا ہے۔
اس ملک گیر تحریک کے اگلے مرحلے کے ایک حصے کے طور پر انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب ذاتی طور پر ملک بھر کی کئی ریاستوں کا دورہ کریں گے۔ ریاستی اور ضلعی اکائیوں کے ساتھ تال میل میں کام کرتے ہوئے وہ دھرمیندر پردھان کی برطرفی کو محفوظ بنانے کے لیے عوامی دباو ¿ بنانے کے مقصد سے مظاہروں کی ایک سیریز کی قیادت کریں گے۔
تحریک کے آئندہ مرحلے میں ، ٹارچ لائٹ کے جلوس،’ہلا بول‘ مارچ، طلباءکے باہمی تعامل کے پروگرام، راج بھون کا گھیراو ¿ ،زرائے اعلیٰ کی رہا ئش گاہوں کے باہر مظاہرہ، بی جے پی کے وزرائ، ایم پیز، اور ایم ایل ایز کے خلاف احتجاج، ضلعی سطح کے طلبہ کو متحرک کرنے کی مہمات اور پبلک آو ¿ٹ ریچ پروگرام، جن کے ذریعہ امتحان میں ناکامی اور تعلیمی نظام کے اندر پھیلی بدعنوانی کو بے نقاب کیا جائے گا۔
آئندہ احتجاجی مظاہروں کے شیڈول میں 2 جون کو ممبئی، 3 جون کو تلنگانہ، 4 جون کو آسام، 6 جون کو ہریانہ، 7 جون کو مدھیہ پردیش، 8 جون کو جھارکھنڈ، 10 جون کو راجستھان، 11 جون کو چھتیس گڑھ، 13 جون کو گجرات، 14 جون کو چندی گڑھ، 15 جون کو پنجاب، 15 جون کو پردیش، 16اور 17 جون کو گوالیار اور 20 جون کو تمل ناڈو شامل ہیں۔
No Comments: