Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اسلامی جمهوریه ایران کے رہبر شہید کے “انقلاب اسلامی کے دوسرے قدم کے بیانیه پر مبنی انگریزی کتاب کی دہلی میں رونمائی

نءی دہلی ، 23 اپریل ( میرا وطن نیوز) ایران کلچر هاوس ئنی دهلی کی جانب سے Futuristic Outlook of the Martyred of the Islamic Republic of Iran کتاب کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس علمی نشست میں دہلی میں ولی فقیہ کے نمائندے،حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی، ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر، دہلی میں ایران کے کلچرل کاونسلر، ڈاکٹر قہرمان سلیمانی، مرکز تحقیقات فارسی دہلی کے ڈائریکٹر، پروفیسر عزیز الدین حسین، رضا رامپور لائبریری کے سابق صدر، پروفیسر عذرا عابدی، شعبہ سماجیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کےساتھ ساتھ بڑی تعداد میں دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر نے کتاب کا تعارف پیش کیا اور مد نظر کے مشمولات کو حکمرانی اور طرز زندگی کے لیے جامع ترین نقشہ راہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ایک علمی تحقیق کا نتیجہ ہے جو دفتر امام شہید ، انتشارات الهدی اور سازمان فرهنگ و ارتباطات اسلامی ، وزارت ثقافت حکومت ایران کی کاوشوں سے شائع ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کتاب کا اصل فارسی ایڈیشن تقریباً آٹھ سال قبل اس وقت شائع ہوا جب کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انقلاب اسلامی اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے یا وہ آئندہ نسلوں تک منتقل نہیں کر سکتا۔ ایسے وقت میں، انقلاب اسلامی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر اس کتاب کے مشمولات رهبر شهید کے بیانیہ کے طور پر منظر عام پر آیا۔

ڈاکٹر فرید نے مزید کہا کہ یہ کتاب یہ ظاہر کرتی ہے کہ نہ صرف انقلاب اسلامی کے مقاصد مدھم نہیں ہوئے بلکہ مستقبل کا راستہ بھی انہی مقاصد کی بنیاد پر متعین کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیانیے نے نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام اور دنیا کے متمدن معاشره کے لیے ایک فکری اور روحانی پیغام دیا ہے۔

انہوں نے کتاب میں ذکر کردہ انقلاب اسلامی کے آٹھ بنیادی اقدار پر روشنی ڈالی جن میں آزادی، اخلاقیات، روحانیت، خود مختاری، کرامت، انصاف، عقلانیت اور بھائی چارگی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدار اسلامی تہذیب کے راستے کو روشن کرتی ہیں اور دیگر قدیم تہذیبوں، خاص طور پر ہندوستانی تہذیب کے ساتھ تبادله خیال کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

تقریب کے دوران حجت الاسلام و المسلمین سید عون نقوی نے رہبر انقلاب اسلامی کے مستقبل بین نظریات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عام نظریات کے برعکس جو انقلاب کو ایک ختم شدہ واقعہ سمجھتے ہیں، اس بیانیے میں انقلاب کو ایک مسلسل جاری رہنے والا اور تہذیبی عمل قرار دیا گیا ہے۔

پروفیسر عذرا عابدی نے اپنے مقالے میں شاہی دور کے مقابلے میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گام دوم کا بیانیہ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک راستہ متعین کرتا ہے جو ماضی کی کامیابیوں سے آگے بڑھنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر زور دیتا ہے۔

پروفیسر عزیز الدین حسین نے رہبر شہید کی عرفانی فکر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گام دوم کا بیانیہ نہ صرف ایرانی عوام بلکہ دیگر اسلامی اور بین الاقوامی تہذیبوں کے لیے ایک راہنما منشور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینی (رح) نے ایران کو شاہی نظام سے آزاد کرایا اور امام شہید (آیت اللہ خامنہ ای) نے اس نظام کو مضبوط بنا کر آئندہ نسلوں تک منتقل کیا۔

حجت الاسلام و المسلمین حکیم الہی نے رہبر شہید کی جامع شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گام دوم کا بیانیہ اسلامی تہذیب کے قیام کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بیانیہ محض ایک انقلابی مرحلے سے آگے بڑھ کر تہذیب سازی کی جانب گامزن ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔

واضح رهے که اس علمی نشست و تقریب رسم اجرا کی نظامت کے فرائض مهدی باقرخان نے انجام دئے.
تقریب کے آخر میں مذکوره بالا کتاب کی باقاعدہ طور پر رونمائی عمل میں لائی گئی۔

Next Post

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *