Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

پاکستان کے ذریعے جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر ہندوستان کی جانب سے شدید تنقید

فرسٹ سکریٹری برائے یو این جی اے کمیٹی پٹیل گہلوٹ نے کہاکہ پاکستان کو سب سے پہلے ہندوستان کامقبوضہ حصہ چھوڑ نا چاہئےاور سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنا چاہئے۔

نیویارک ۔ پاکستان کے نگران کار وزیراعظم انور الحق کاکر کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔پاکستان کے نگران کار وزیراعظم کاکر نے یہ ریمارکس نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب کے دوران کئے ہیں۔عبوری وزیراعظم انورالحق کاکر نے کہاکہ پاکستان ہندوستان سمیت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ پرامن اورنتیجہ خیزتعلقات کا خواہاں ہے اورکشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن کی کلید ہے۔
اپنے جواب میںا قوام متحدہ کی فرسٹ سکریٹری برائے یو این جی اے کمیٹی پٹیل گہلوٹ نے کہاکہ پاکستان کو سب سے پہلے ہندوستان کامقبوضہ حصہ چھوڑ نا اور سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنا چاہئے۔انہوں نے پاکستان سے کہاکہ وہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند کریں۔پٹیل گہلوٹ نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کے لئے پاکستان کو تین طریقے سے عمل کرنا ہوگا‘پہلے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچوں کوفوری طور پربند کرنے کی ضرورت ہے۔دوسراہندوستان کے غیرقانونی اور زبردستی قبضہ کئے گئے علاقوں کو خالی کرنا ہوگا‘اور تیسرا پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف سنگین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکناہوگا۔
ہندوستانی سفارت کارنے اس بات کا اعادہ کیاکہ جموں وکشمیر کے ساتھ لداخ کے مرکزکے زیرانتظام علاقے ہندوستان کے اٹوٹ حصہ ہے او رپاکستان کے پاس ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کاکوئی”اختیار“ نہیں ہے۔ہندوستانی سفارت کار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کے حلاف ”بے بنیا داو رمن گھڑت پروپگنڈہ“ کرنے کے لئے پاکستان کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔
اپنے ریمارکس میں گہلوٹ نے کہاکہ ”جب ہندوستان کے خلاف بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی پروپگنڈہ کے لئے اس شاندار فورم کے غلط استعمال کی بات آتی ہے تو پاکستان ایک عادی مجرم بن گیاہے۔
اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور کثیر الجہتی تنظیمیں اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ پاکستان ایسا کرتا ہے تاکہ بین الاقوامی برداری کی توجہہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے ہی نامناسب ریکارڈ سے ہٹاسکے۔ہندوستان اقوام متحدہ میں سرحد پار سے دہشت گردی اور اقلیتوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے پاکستان کی اکثر گھیرا بندی کرتا رہا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *