Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مغربی کنارے کے شہر جنین واقع مہاجر کیمپ پر اسرائیلی حملے میں چار فلسطینی ہلاک 13 زخمی

فلسطینی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی حملے کی وجہ سے مقامی رہائشیوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ بعض علاقوں میں بجلی کاٹ دی گئی اور فوجی بلڈوزر تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے دیکھے گئے۔

یروشلم : فلسطینی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی حملے کی وجہ سے مقامی رہائشیوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ بعض علاقوں میں بجلی کاٹ دی گئی اور فوجی بلڈوزر تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے دیکھے گئے۔ فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ شمال مغربی کنارے کے شہر جنین میں کیے گئے اس حملے میں چار افراد ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے پیر کے روز بتایا کہ وہ ”انسداد دہشت گردی کے لیے اپنے وسیع تر اقدامات‘‘ کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد وہاں ایک مہاجر کیمپ میں قائم اس مبینہ کمانڈ سینٹر کو تباہ کرنا تھا، جسے جنگجو استعمال کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی آباد کاروں پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں چار اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد حکومت پر ایسے حملوں کا سخت جواب دینے کے لیے دباؤ اور بڑھ گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ ہَیشٹ نے بتایا کہ فضائی حملوں کا آغاز علی الصبح ایک بجے کے فوراً بعد کیا گیا۔ اس دوران اس عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سے جنگجو حملوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد اس عمارت کو تباہ کرنا اور وہاں ہتھیاروں کو ناکارہ بنانا تھا۔

فوجی ترجمان نے کہا، ”اس پر قبضہ کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہم مخصوص اہداف کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں تقریباً دو ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں اور فوج نے زمینی فورسز کے لیے راستہ صاف کرنے کے خاطر ڈرونز کے ساتھ متعدد حملے کیے۔

گو کہ اسرائیل مغربی کنارے کے علاقے پر حالیہ ہفتوں کے دوران اکا دکا فوجی حملے کرتا رہا ہے، تاہم ہَیشٹ نے کہا کہ پیر کے روز جو حملے کیے گئے، وہ سن 2006 میں فلسطینی انتفاضہ کے بعد سے دیکھنے کو نہیں ملے تھے۔

اسرائیل نے حالانکہ کہا کہ اہداف کو نشانہ بنا کر حملے کیے جا رہے ہیں لیکن فلسطینی سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی ویڈیوز میں ہجوم والے علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دیگر ویڈیوز میں زخمیوں کو اسٹریچرز پر لاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *