Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی نے محکمہ تعلیم کو بدعنوانی کے اڈے میں تبدیل کردیا:انکش نارنگ

550 اساتذہ کا آن لائن عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے من مانی طریقے سے آف لائن ٹرانسفر کئے گئے
30 سے40 کلومیٹر دور ٹرانسفر ہونے کے سبب اساتذہ کواب آنے جانے میں مشکلات پیدا ہو ں گی
بی جے پی کو وضاحت کرنی ہوگی: آن لائن ٹرانسفر سسٹم کو ’پرچی سسٹم‘ کے حق میں کیوں ختم کیا گیا؟
کیا بی جے پی کے میئر، ڈپٹی میئراور چیئرمین تبادلوں میں بدعنوانی کو ہوا دینے کےلئے ملی بھگت کی ہے

نئی دہلی، 4 جولائی(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور ایم سی ڈی میں اپوزیشن لیڈر انکش نارنگ نے محکمہ تعلیم کے اندر اساتذ ہ کے من مانے تبادلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی نے محکمہ تعلیم کو بدعنوانی کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ قائم آن لائن عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے کل 550 اساتذہ کو من مانی طریقے سے آف لائن ٹرانسفر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر نریلا کے ٹیچرس کو شاہدرہ بھیجا جا رہا ہے، جس سے وہ روزانہ 30-40 کلومیٹر سے زیادہ سفر کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اس موقع پرانکش نارنگ نے پوچھا کہ بی جے پی نے آن لائن ٹرانسفر سسٹم کو کیوں بند کر دیا اور اس کے بجائے ’پرچی سسٹم‘نافذ کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی کے میئر پرویش واہی، ڈپٹی میئر اور چیرمین تبادلوں میں بدعنوانی کو فروغ دینے کے لیے ملی بھگت کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عام آدمی پارٹی اساتذہ کی ہراسانی یا دہلی کے بچوں کی تعلیم کو خطرے میں ڈالنے کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی میئر اور کارپور یشن کے محکمہ تعلیم کے افسران دہلی کے لوگوں کو جوابات فراہم کریں۔
ایم سی ڈی میں اپوزیشن لیڈر انکش نارنگ نے کہا کہ ایم سی ڈی اساتذہ کو سوک سینٹر میں میئر کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ’چار انجن والی سرکار‘ نے آن لائن اساتذہ کے تبادلے کے عمل کو آف لائن سے بدل دیا ہے اور 550 اساتذہ کو ان کی رضا مندی کے بغیر ٹرانسفر کر دیا ہے۔ انکش نارنگ نے کہا کہ یہ آف لائن عمل اس لیے لاگو کیا گیا تھا تاکہ بی جے پی کے میئر، ڈپٹی میئر، چیرمین، اور دیگر لیڈر محکمہ تعلیم کے اندر ایک کرپٹ ’چٹ سسٹم‘چلا سکیں اور تبادلوں کی آڑ میں بدعنوانی میں ملوث ہو سکیں۔ اس کرپشن کی وجہ سے پرائمری تعلیم دینے کے ذمہ دار اساتذہ اب میئر کے دفتر کے باہر دھرنا دینے پر مجبور ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ نریلا میں رہنے والے ایک استاد کو 50 کلو میٹر دور شاہدرہ میں تعینات کر دیا گیا ہے اور انہیں روزانہ اتنا فاصلہ طے کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
انکش نارنگ نے بی جے پی کے سامنے تین براہ راست سوالات کیے: ایم سی ڈی میں اساتذہ کے تبا د لے کے لیے قائم آن لائن عمل کی پیروی کیوں نہیں کی گئی؟ محکمہ تعلیم میں یہ کرپٹ ’چٹ سسٹم‘ کب تک جاری رہے گا؟ کب تک میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور دیگر بی جے پی لیڈر محکمہ تعلیم کے افسران سے ملی بھگت کرکے بدعنوانی میں ملوث رہیں گے؟
انکش نارنگ نے کہا کہ بی جے پی کو اس ریاست پر شرم آنی چاہئے جس نے دہلی میں تعلیم کو کم کیا ہے۔ لوگوں نے انہیں بڑی امیدوں کے ساتھ ایم سی ڈی میں منتخب کیا تھا، لیکن بی جے پی نے تعلیمی ماڈل کا چہرہ پوری طرح بدل دیا ہے اور محکمہ تعلیم میں بدعنوانی پھیلا دی ہے۔ اپنے ٹرانسفر کے خلاف اساتذہ
پچھلے دو دونوں ایم سی ڈی ہیڈکوارٹر سوک سینٹرواقع میئر دفتر پر دھرنا دے کراپنا احتجاج درج کراچکے ہیں ،حالانکہ انہیں ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب انتظامیہ کی طرف سے نہیں موصول ہوا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *