
نئی دہلی، 12 اگست (میرا وطن نیوز )
دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے بدھ کو اسمبلی میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا، کہ ’مانسون اجلاس کا میاب اور نتیجہ خیز رہا۔قائد حزب اختلاف کی مسلسل غیر موجودگی کے باوجود 13 گھنٹے اور 19 منٹ کی ایوان کی کارروائی کے دوران چار اہم بل منظور کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ آٹھویں اسمبلی کی تشکیل سے لے کر اب تک ایوان میں 19 سی اے جی رپورٹس پیش کی جا چکی ہیں ۔
اس موقع پر اسپیکر نے تین روزہ مانسون اجلاس کی اہم کامیابیوں، اہم سرگرمیوں اور قانون سازی کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا۔ قاعدہ 280 کے تحت معزز اراکین نے مفاد عامہ کے کل 52 معاملات کو اٹھایا۔ اگرچہ عام طور پر یومیہ 10 ممبران کی حد مقرر کی گئی ہے لیکن اس بار ایک ہی دن میں 23 ممبرا ن کو مفاد عامہ کے مسائل اٹھانے کا موقع دیا گیا۔
وجیندر گپتا نے کہا کہ اپوزیشن کے 22 ارکان میں سے تقریباً 20 ایوان میں موجود تھے۔ دریں اثنا، حکمران جماعت کی بھی مضبوط موجودگی تھی، اس کے 48 میں سے تقریباً 44-45 ارکان نے شرکت کی۔ اسمبلی کی آپریشنل کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئےاسپیکر نے 7ویں دہلی اسمبلی سے موازنہ کیا، جس نے اپنے پورے پانچ سالہ دور میں صرف پانچ اجلاس منعقد کیے تھے۔ اس کے برعکس، آٹھویں دہلی اسمبلی نے ڈیڑھ سال سے بھی کم عرصے میں چھ اجلاس منعقد کیے ہیں۔
ایوان میں اٹھائے گئے مختلف مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اراکین نے کئی اہم شہری مسا ئل کو اٹھایا، جن میں کچرے کو ٹھکانے لگانا، پانی جمع ہونا، آوارہ جانوروں کا خطرہ، پی ڈبلیو ڈی سڑ کیں اور بجلی کے بل شامل ہیں۔
No Comments: