
نئی دہلی،19ستمبر (میرا وطن نیوز)
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم آشیش سود نے ہفتہ کوہلی ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (ڈی ٹی یو) میں ‘سیوا-فرسٹ انوویشن چیلنج 2026’ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس اقدام کے تحت نوجوان جدت کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ حقیقی زندگی کے مسائل کی نشاندہی کریں اور ٹیکنالوجی پر مبنی عملی حل تیار کریں۔ اس چیلنج میں 2 کروڑ روپے کا انعامی فنڈ، ماہرانہ رہنمائی اور دہلی سرکار کی جانب سے ضروری تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اس موقع پر آشیش سود نے کہا کہ ‘سیوا-فرسٹ انوویشن چیلنج’ کا تصور سادہ ہے: حقیقی دنیا کے مسائل کا حل تلاش کرکے معاشرے کی خدمت کرنا۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو خود کو صرف کلاس رومز اور نصابی کتابوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ معاشرے کے ساتھ جڑنا چاہیے، اس کے حقیقی چیلنجو ں کو سمجھنا چاہیے اور ان کے لیے حل تیار کرنے چاہئیں۔
آشیش سود نے بتایا کہ دہلی ٹیکنالوجیکل یونیور سٹی (ڈی ٹی یو) کے بطور ‘اینکر یونیورسٹی’ (مرکزی یونیو رسٹی) خدمات انجام دینے کے ساتھ، اس اقدام کو شمالی بھارت کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوںجن میں ہریانہ، پنجاب، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، چندی گڑھ اور لداخ شامل ہیں،میں نافذ کیا جائے گا۔ اس میں یونیورسٹیوں، صنعتوں، اسٹارٹ اپس، اسکولوں، آئی ٹی آئی اور پولی ٹیکنک اداروں کے طلباءشرکت کریں گے۔
آشیش سود نے کہا کہ شرکاءمقامی اور قومی سطح کے چیلنجوں کی نشاندہی کریں گے، نئے خیالات (آئیڈ یا ز) وضع کریں گے، پروٹوٹائپس (نمونے) تیار کریں گے، ان کی جانچ اور توثیق کریں گے، اور عملی حل کے نفاذ کی سمت کام کریں گے۔
آشیش سود نے زرعی اور دیہی شعبوں میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے ڈی ٹی یو کے ایک ایسے اقدام کو سراہا جس کے تحت تعلیمی سیشن 28-2027 سے انجینئرنگ کے طلباءکو د یہا ت بھیجا جائے گا تاکہ وہ مقامی مسائل کی نشاندہی کر سکیں اور ٹیکنالوجی پر مبنی عملی حل وضع کر سکیں۔
No Comments: