Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی پولیس پر دو مسلم خاتون صحافیوں سے مبینہ بدسلوکی اور حملے کا معاملہ

محمد شاہد گنگوہی اور ایڈووکیٹ فیروز خان غازی کی شدید الفاظ میں مذمت

دونوں خاتون صحافیوں کے ساتھ مذہب کے نام پر امتیازی سلوک کیے جانے کی تحقیقات ہونی چاہیئے

نئی دہلی، 4 ستمبر ( میرا وطن نیوز )
سوشل اینڈ آرٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی اور ساو ¿تھ ایشین مائنارٹی لائرز ایسوسی ایشن ( ساملا ) کے سکریٹری جنرل ایڈووکیٹ فیروز خان غازی نے 4PM نیوز نیٹ ورک سے وابستہ دو مسلم خاتون صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ دہلی پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ حملے، غیر قانونی حراست اور توہین آمیز سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوںنے کہا کہ صحافیوں کا سوال پوچھنا کوئی جرم نہیں۔ اگر کوئی صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کر تے ہوئے عوامی پروگرام میں سیاسی رہنماو ¿ں سے سوال کرتا ہے اور اس کے جواب میں اسے مبینہ طور پر تشدد، دھمکی یا غیر قانونی حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ آزادی? صحافت اور جمہوری اقدار کے لیے انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں یہ الزام درست ثابت ہوتا ہے کہ دونوں خاتون صحافیوں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ مبینہ طور پر زیادہ سخت یا امتیازی سلوک کیا گیا، تو یہ معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ ایسے الزامات کی اعلیٰ سطحی، آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث پائے جانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کاررو ائی کی جائے اور متاثرہ صحافیوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے دونوں خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ حملے، غیر قانونی حراست اور توہین آمیز سلوک کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دستیاب رپورٹس اور سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق دونوں صحافی ایک عوامی پروگرام کی کوریج کے دوران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ، دہلی کے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر سیاسی رہنماو ¿ں سے سوال کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ الزام ہے کہ انہیں حراست میں لے کر ساکیت پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور وہاں مبینہ طور پر جسمانی اور ذہنی اذیت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ واقعہ آزادی صحافت، قانو ن کی حکمرانی، انسانی وقار، خواتین کے تحفظ اور آئینی مساوات پر سنگین حملہ ہوگا۔انہوں نے پورے واقعہ کی فوری، آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ مبینہ حملے اور غیر قانونی حراست کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ اہلکاروں کو معطل کرکے محکمانہ کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی امتیاز اور فرقہ وارانہ تعصب کے سنگین الزام کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ متا ثر ہ صحافیوں کو جسمانی نقصان، ذہنی اذیت اور مبینہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مناسب معاوضہ دیا جائے۔خصوصاً خواتین صحافیوں کو بغیر خوف، دھمکی یا تشدد کے اپنے فرائض انجام دینے کے لیے مو ¿ثر حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
محمد شاہد گنگوہی اور فیروز غازی نے دہلی پولیس کمشنر، ایل جی اور دیگر متعلقہ آئینی و قانونی حکام سے مطا لبہ کیا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔“سوال پوچھنا جرم نہیں، صحافت کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا’ہے۔
انہو ں نے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں صحافی کا بنیادی کام سوال پوچھنا اور عوام تک سچائی پہنچانا ہے۔ صحافیوں، خصوصاً خواتین صحافیوں، کو خوف و دباو ¿ سے آزاد ماحول فراہم کرنا ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *