Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ملک کے 80 فیصد مسلمان دہشت گرد ہیں‘ےہ کہنا بدترین اشتعال انگیزی ہے

22 ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینا انصاف کی توہین ہے :مفتی مکرم

نئی دہلی ،21اگست (میرا وطن نیوز )
شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں کہا کہ اللہ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہوتا دعا کرنے سے فائدہ تب ہی ہوگا جبکہ ہم خود نیک ہوں۔ انہوں نے کہا 25 اگست بروز منگل مسجد فتح پوری میں جلسہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد نماز عشاءمنعقد ہوگا ۔
اس موقع پرمفتی مکرم احمد نے کہا کہ ایک مخصوص مذہبی فرقہ پر دہشت گردی کا الزام لگانا کوئی نئی بات نہیں ہے جب سیاسی طور پر کامیاب نہیں ہو پاتے تو عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے مسلما نوں پر طرح طرح کے الزام لگانے لگتے ہیں کئی سال سے یہ حربہ استعمال کیا جا رہا ہے مذہب اسلام امن و سلامتی، محبت اور رواداری کا مذہب ہے وہ دہشت گردی کے سخت مخالف ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے ایودھیا میں ایک شخص نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے کہا میں مسلمانوں کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا میں ان کو دفن کر دوں گا اس نے مزید کہا کہ ملک کے 80 فیصد مسلمان دہشت گرد ہیں۔ ایک مذہبی برادری کو نشانہ بنانا اور دھمکی آمیز بیان بازی کرنا انتہائی تشویش ناک ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسے شر پسند عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
مفتی مکرم احمد نے مظفر نگر فساد کے 22 ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینے کے حکومتی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور مذمت کی انہوں نے کہا کہ فسادات کے ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینا سراسر نا انصافی ہے۔ 2013 میں مظفر نگر میں فرقہ وارانہ فساد بھڑک گئے تھے اس میں کئی سیاسی لیڈرو ں پر بھی مقدمات قائم کیے گئے تھے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پرعدالت فیصلہ کرتی فیصلہ جو بھی ہو تا وہ سب کو منظور ہوتا مقدمات واپس لینا مذموم عمل ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *