
ڈی ڈی اے کی غلطی کے سبب ایسا ہوا ہے ،حل کےلئے آگے کا لائحہ عمل تیار کیا گیا
محمد ثمامہ کی اوکھلاکے مکینوں سے اپیل کی، اس نازک وقت میں متحد ہو جائیں
نئی دہلی، 26 اپریل (میرا وطن نیوز )
مرکزی حکومت اور دہلی سرکار کی جانب سے 1500 سے زائد ان آتھورائزڈ کالونیوں کو ریگولرائز کیا گیا ، حالانکہ کچھ کالونیاں ڈی ڈی اے کی غلطی کی وجہ سے اس فہرست میں شامل نہیں ہو سکی ہیں۔اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تحت شاہین باغ، ابوالفضل، جوگا بائی سمیت دیگر کالونیاں دہلی ماسٹر پلان 2021 میں F کیٹیگری میں شامل تھیں اور انہیں بھی ریگولرائز ہونا چاہیے تھا، مگر ڈی ڈی اے کی جانب سے غلطی سے انہیں O زون میں ڈال دیا گیا، جس کے باعث یہ کالونیاں ابھی تک ریگولرائز ہونے سے محروم ہیں۔ ڈی ڈی اے کی اس غلطی کی وجہ سے جامعہ نگر کے عوام نے تشویش ظاہر کی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ حلقہ کی متعلقہ آر ڈبلیو ایز کے نمائندے ایک جگہ جمع ہوئے اور تبادلہ خیال آگے کا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے ۔
اسی حساس مسئلے کے حل کو لے کر ابو الفضل انکلیو ڈی بلاک کے صدر آصف نے علاقے کی تمام آر ڈبلیو ایز کے نمائندگان کی ایک اہم میٹنگ طلب کی۔ جس میں غفار منزل آر ڈبلیو اے کے صدر محمد ثمامہ اور ممبر سید جنید، طوبہ کالونی کے صدر حاجی چمن ، جوگا بائی کے صدر امجد گڈو، شاہین باغ کے ریاض نیتا، بھا سکر کمپاو ¿نڈ سے ایڈووکیٹ نجمی ، معروف سماجی کارکن صبا اسرار، مونس اعظمی، ایڈوکیٹ محمد نوشاد تیاگی اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
ابو الفضل انکلیو ڈی بلاک کے صدر آصف کی زیر صدارت میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ڈی ڈ ی اے کی اس غلطی کو درست کروانے کے لیے ایک مشتر کہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو اس معاملے کو متعلقہ ایم پی ، ایم ایل اے اور کونسلرز کے سامنے اٹھائے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔غفار منز ل آرڈبلیو اے کے صدر محمد ثمامہ نے کہا کہ ہم سب سے پہلے اپنے منتخب نمائندوں سے ملاقا ت کر یں گے اور ڈی ڈی اے کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے اس غلطی کو اجاگر کریں گے تاکہ اسے جلد از جلد درست کروایا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب یہ معاملہ سرکار تک پہنچے گا تو ان شاءاللہ پوری دہلی کی تقریباً 94 متاثرہ کالونیوں کو راحت ملے گی۔
اس موقع پرمحمد ثمامہ نے اوکھلا اور جامعہ نگر کے تمام مکینوں سے اپیل کی کہ وہ اس نازک وقت میں متحد ہو جائیں، بغیر کسی خوف و ہچکچاہٹ کے اپنی آر ڈبلیو اے اور نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس حق کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیں۔
No Comments: