
نئی دہلی،17جولائی (میرا وطن نیوز )
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے ) کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی38 عمارتوں کے انہدام کے لیے جاری نوٹس کو جانبدارانہ، انتقامی اور غیر منصفانہ کارروائی
قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ بورڈ نے ِ اتر پردیش سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کارر وائی کو فوری طور پر روکا جائے اور انہدام کا نوٹس واپس لیا جائے۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک تعلیمی ادا رے کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں ایک طر ف مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں ناکام رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف جو ادارے عوامی جدو جہد اور قربانیوں سے قائم ہوئے ہیں، انہیں مختلف انتظامی اور قانونی بہانوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایک جانب اعظم خان کے خلاف سیاسی انتقام کی عکاسی کرتا ہے اور دوسری جانب مسلم معاشرے کو تعلیمی میدان میں مزید کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے آر ڈی اے کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں منظوری کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق متعلقہ عمارتیں اس و قت تعمیر ہوئی تھیں جب یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا، اس لیے اس وقت آر ڈی اے سے نقشہ منظور کرانے کی کوئی قانونی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی قسم کی تکنیکی یا قانونی خامی موجود بھی ہو تو اسے قانونی طریقہ کار کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔ برسوں کی محنت، وسائل اور عوامی تعاون سے قائم ہونے والی ایک جامعہ کی 38 عمار تو ں کو منہدم کرنے کا فیصلہ نہ صرف غیر مناسب اور جابرانہ ہے بلکہ ملک کے تعلیمی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ اس سے صرف ایک ادارہ یا ایک طبقہ متاثر نہیں ہوگا بلکہ قومی تعلیمی سرمائے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اتر پردیش سرکار اور رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرتے ہوئے انہدام کا نوٹس واپس لے، قانونی مسائل کو افہام و تفہیم کے ذر یعے حل کرے اور ملک کے اس اہم تعلیمی ادارے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
No Comments: