
آئینی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد جاری رہے گی: مولانا محمود اسعد مدنی
نئی دہلی، 17 جولائی (میرا وطن نیوز )
راجستھان کے سرحدی اضلاع میں مساجد، مدارس، درگاہوں، مکانات اور دیگر تعمیرات کے خلاف جاری انہدامی کارروائیوں کے معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعہ کو جمعیت علماءہند کی جانب سے دائر خصوصی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو اہم عبوری راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے متعلقہ املاک کے خلاف دو ہفتوں تک تمام انہدامی کارروائیوں پر روک عائد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ درخواست گزار اپنے قانونی اور آئینی نکات کے ساتھ راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویز ن بنچ سے رجوع کریں۔
صدر جمعیت علماءہندمولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر 40 متاثرین کی جانب سے دائر اس عرضی کی سماعت کے دوران جمعیت کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے تفصیلی اور موئثر دلائل پیش کیے، جبکہ سینئر وکلاءحذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہر حکیم اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصور علی خاں نے بھی مقد مے کی پیروی کی۔اس کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمبھا اور جسٹس الو ک ارادھے کی بنچ کے سامنے ہوئی۔
آج سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ مکانات، مساجد، مدارس اور دیگر املاک کے خلاف مسلسل انہدامی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ سیکڑوں مذہبی و رہائشی املاک کو نوٹس جار ی کیے گئے ہیں۔ کسی بھی مذہبی مقام یا شہری کی ملکیت کے خلاف کارروائی صرف آئین، قانون اور فطری انصاف کے اصولوں کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے، نہ کہ انتظامی اختیارات کے یکطرفہ استعمال کے ذریعے۔ اس لیے اگر فوری عبوری تحفظ نہ دیا گیا تو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔
دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے دو ہفتوں تک انہدامی کارروائی پر عبوری روک لگاتے ہوئے واضح کیا کہ اس نوعیت کے معاملات میں متنازع حقائق کا تفصیلی جائزہ متعلقہ ہائی کورٹ ہی لے سکتی ہے۔ اسی لیے عدالت نے عرضی گزاروں کو راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویڑن بنچ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت آج ایک بار پھر اپنے 13 نومبر 2024 کے تاریخی فیصلے میں طے کردہ اصولوں کا بھی حوالہ دیا اور واضح کیا کہ کسی بھی انہدامی کارروائی میں قانونی طریقہ کار، قدرتی انصاف اور آئینی ضمانتوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جہاں عوامی اراضی پر غیر مجاز تجاوزات ثابت ہو ں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم ہر مقدمہ اپنے حقائق کے مطابق پرکھا جائے گا اور سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں متعلقہ ہائی کورٹ مناسب فیصلہ کرے گی۔
جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق راجستھا ن ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویڑن بنچ سے فوری رجوع کریں گے۔ جمعیت متاثرہ شہریوں، مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی مقامات کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی فورم پر پوری قوت کے ساتھ مقدمہ لڑتی رہے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ قانون اور انصاف کی بالادستی قائم ہوگی
No Comments: