Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ، ضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ گورنر کو میمورنڈم پیش

جماعت اسلامی ہندکا یونیورسٹی میں انہدامی کارروائی پر روک لگانے کا مطالبہ

اراکین وفد نے یونیورسٹی طلبہ اور انتظامیہ سے ملاقات کر صورتحال کا لیا جائزہ

رام پور،22جولائی (میرا وطن نیوز)
جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ وفد نے اساتذہ اور احتجا جی طلبہ کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفد میں شامل افراد نے یونیورسٹی انتظامیہ، مقامی سماجی ر ہنما و ¿ں اور اعظم خان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔ وفد نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف انہدامی کاروائی پر روک لگانے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے اتر پردیش کی گورنر کو ایک یادداشت بھی پیش کی۔
جماعت اسلامی ہند نے اتر پردیش سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے مو ¿ثر اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ یونیورسٹی کیمپس میں کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی نہ کی جائے۔جماعت اسلامی ہند نے میمورنڈم کے ذریعہ جو اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ا ن میں سرکارسے انہدامی کاروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ شامل ہے۔
جماعت اسلامی ہند نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت نے کہا کہ 30 جولائی 2026 کی مقررہ آخری تاریخ قریب ہے، اگر انتظامیہ اپنے انہدامی فیصلے پر عمل کرتی ہے تو یہ طلبہ برادری کے لیے سنگین نا انصافی ہوگی۔
اس سلسلے میں ریاست کی گورنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند نے کہا ہے کہ وہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ اور اس ادارے کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ انہدامی حکم کی قانونی حیثیت اور یونیورسٹی کی جانب سے اٹھائے گئے دائرہ اختیار سے متعلق اعتراضا ت کا فیصلہ قانون کے مطابق عدالتی عمل کے ذریعے کیا جا سکے۔
وفد نے تقریباً 3ہزار طلبہ کے مستقبل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ان میں بڑی تعداد معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کی ہے جو فیس میں رعایت حاصل کرکے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وفد نے کہا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کا انہدام درحقیقت پورے ادارے کو تباہ کر دے گا اور ہزاروں طلبہ کو ایک اہم تعلیمی ادارے سے محروم کر دے گا، جو آئینِ ہند کے آرٹیکل 30 کے تحت حاصل شدہ حقوق کے مطابق قائم کیا گیا ہے۔
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی عرص دراز سے معاشرے کو معیاری تعلیم فراہم کر رہی ہے اور اگر انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی تو اس سے ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کو ناقابل تلا فی نقصان پہنچے گا۔وفد نے یہ بھی کہا کہ ہم یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ معاملہ صرف عمارتوں کے تحفظ کا نہیں بلکہ تعلیم کے حق اور ہمارے بچوں کے مستقبل کا ہے۔ سرکارکو انہدام کے بجائے عمارتو ں کو قانونی حیثیت دینے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انتظامی کارروائی کے نتیجے میں کوئی بھی طالب علم تعلیم سے محروم نہ ہونے پائے۔
جماعت اسلامی ہند کے وفد میں قومی سکریٹری مولانا محمد شفیع مدنی ، محمد احمد ، اسسٹنٹ سکریٹری انعام الرحمٰن ، مولانا ضمیر الحسن فلاحی، امیر حلقہ یوپی مغرب، مولانا عبدالسلام بستوی، امیر مقامی رامپور اور سینئر صحافی سید خلیق احمد شامل تھے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *