
نئی دہلی،7ستمبر (میرا وطن نیوز)
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) نے ’ ہندوستان میں نوجوان کاابھار: تعلیم، احتساب اور مساوات کا سوال‘کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی جنرل اسمبلی کے 40ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر منعقد کیا گیایہ لیکچرممتازماہر تعلیم ، سابق سینئر بیورو کریٹ اورآل انڈیا ایجوکیشن موومنٹ کے صدرڈاکٹر خواجہ محمد شاہدنے پیش کیا۔
ڈاکٹرخواجہ محمد شاہد نے اپنے خطبہ میں ملک کے سماجی، اقتصادی اور جمہوری مستقبل کی تشکیل میں ہندو ستا ن کی نوجوان آبادی کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا آباد یاتی فائدہ اسی وقت حقیقی قومی اثاثہ بن سکتا ہے جب نوجوانوں کو معیاری تعلیم، مساوی مواقع اور ایک قابل ومعاون سماجی ماحول فراہم کیا جائے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ تعلیم کو محض ڈگریوں یا روزگار کے حصول کے ذریعہ کے طورپرنہیں دیکھا جانا چاہئے۔
خطیب نے مساوی مواقع اور کردارسازی پر زور دیا،اور کہا کہ اس میں رسمی مساوات سے زیادہ کی ضرو رت ہے۔ طلباءکو اچھے اسکولوں، یونیورسٹیوں، اساتذہ، ٹیکنالوجی، لائبریریوں، اسکالرشپ اور دیگر تعلیمی وسائل تک حقیقی رسائی حاصل ہونی چاہیے جو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا ادراک کر سکیں۔
اس موقع پرانسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین پروفیسر ایم افضل وانی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ کسی بھی معاشرے میں نوجوان اپنے بڑوں کے ویزن کا امتحان ہوتے ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کی ذہانت و صلاحیت سے زیادہ ان کے بڑوں کے ویڑن کی اہمیت ہے۔ سوالات کے سیشن میں ڈاکٹر کلیم عالم اور ڈاکٹر ناز خیز نے بچوں کی اخلاقی تعلیم، ان پر سماج اور خاندان کا جبر ،سسٹم کے نقائص اورنجی تعلیمی اداروں کی تاجرانہ روش کی جانب توجہ دلائی۔ پروگرام کا استقبالیہ خطبہ انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹر ی جنرل محمدعالم نے پیش کیا جبکہ تحریک کی تحریک ڈاکٹر آ فتاب نے پیش کی۔
No Comments: