Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

تراویح کے دوران غیر ملکی طلباء پر حملے کی جماعت اسلامی ہندکی جانب سےمذمت

نفرت پھیلانے والے سماج دشمن عناصر قانون سے بے خوف کیوں ہیں۔پروفیسر سلیم انجینئرکا سوال

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے گجرات ہونیورسٹی کے ہاسٹل میں تراویح کے دوران غیر ملکی طلباء پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ” ہفتہ کی رات گجرات یونیورسٹی کے کیمپس میں رمضان کے مبارک مہینے میں کچھ غیر ملکی طلباء نماز تراویح ادا کررہے تھے جن پر کچھ شر پسندوں نے حملے کرکے پانچ کو زخمی کردیا جن میں دو کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ یہ ایک مذموم عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ غیر ملکی طلباء ہاسٹل کے ایک حصے میں نماز ادا کر رہے تھے، کچھ باہری لوگ کیمپس میں داخل ہوئے اور ان طلباء کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے، پھرکچھ دیر بعد ہی پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کیا جانے لگا۔حیر ت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے بروقت کارروائی نہیں کی اور مجرموں کو یونیورسٹی کے احاطے میں اشتعال انگیزی کی چھوٹ دی۔ یہ پولیس کی نااہلی کو اجاگر کرتا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئے اور ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے۔ کیمپس میں موجود پولیس کی کوتاہی اور شرپسندوں کو چھوٹ دینے کا یہ رویہ، بتا رہا ہے کہ نفرت پھیلانے والے سماج دشمن عناصر قانون سے بے خوف کیوں ہیں“۔
پروفیسر سلیم نے مزید کہا کہ ” غیر ملکی طلباء پر ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی وجہ سے حملہ کیا جانا ہ،ماری روایتی رواداری اور قومی تکثیریت کے ان اصولوں کے خلاف ہے جن کو ہماری قوم نے ہمیشہ سے برقرار رکھا ہے۔ اس طرح کی شر انگیزی سے نہ صرف ان طلباء کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو تا، بلکہ ہمارے ملک کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے۔ لہٰذا اس جرم کا ارتکاب کرنے والے افراد کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے اور اس میں ملوث لوگوں کی شناخت کرکے انہیں سزا دی جانی چاہئے ۔ ہم گجرات پولیس سے پُر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی تحقیقاتی عمل کو تیز کرے اور بلا تفریق قوم و مذہب طلباء کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس طرح کا حادثہ، دراصل نفرت اور پولرائزیشن کے اس ماحول کا نتیجہ ہے جو ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کے خلاف برسوں سے تیار کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹڈ تشدد ایک معمول بن چکا ہے۔ جب تک اس نفرتی ماحول کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس طرح کے فرقہ وارانہ واقعات کے اصل محرک کا پتہ نہیں لگا یا جاسکتا ۔ نیز تعلیمی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شمولیت اور رواداری کی اقدار کو برقرار رکھے اور آئندہ کسی بھی ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روکنے کے لئے فعال اقدامات کرے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *