Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اردو اکادمی دہلی :’نئے پرانے چراغ‘ کے تیسرے روز ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری

اجلاس میں ڈی یو، جامعہ اور جے این یو کے ریسرچ اسکالرز نے مقالات پیش کیے

نئی دہلی، 30 اگست(میرا وطن نیوز)
اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام جاری پانچ روزہ ادبی اجتماع ’نئے پرانے چراغ‘کے تیسرے دن مختلف ادبی نشستوں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں تنقیدی و تحقیقی اجلاس، تخلیقی اجلاس اور مشاعرے نے ادبی فضا کو مزید بامعنی اور پررونق بنا دیا۔تیسرے دن کا پہلا تنقیدی و تحقیقی اجلاس صبح 10 بجے شروع ہو ا ۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر محمد کاظم اور پروفیسر شیخ عقیل احمد نے مشترکہ طور پر کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محضر رضا نے انجام دیے۔
اجلاس میں دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ریسرچ اسکالرز نے اردو ادب کی مختلف شخصیات، اصناف اور موضوعات کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالات پیش کیے۔ ان مقالات میں اردو ادب کے مختلف پہلوو ¿ں کا تحقیقی اور فکری جائزہ پیش کیا گیا ۔ ان ریسرچ اسکالرز میں زین العابدین ہاشمی نے ’ندوة العلوم کے اہم نثر نگار اور ان کی اہم تخلیقات‘، شارق محمد عزیز نے ’پیروز ٹروپ اور سعید عالم : اردو اسٹیج کا ایک معاصر تجربہ‘، محمد تہلیل عالم نے’ماحولیاتی مطالعہ اور عصری تنقید‘، وپن کمار نے ’مہا بیانیہ مہابھارت‘، عبیداللہ نے’متنبی اور غالب کی غزلیہ شاعری کا تقابلی مطالعہ‘، محترمہ عارفہ جان نے’جادوئی حقیقت نگاری: معنی اور نیر مسعود‘، غلام وارث نے ’رام چرن مانس میں اردو الفاظ: ایک تجزیاتی مطالعہ‘، غلام محمد نے’عصر حاضر میں اردو سفرناموں کی اہمیت و معنویت‘ اور فیضان اللہ نے ’مراٹھی کہانیوں میں دلت سماج کی عکاسی‘ پر اپنے مقالات پیش کیے۔
مقالات کی پیشکش کے بعد پروفیسر ندیم احمد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ علمی و شعوری سفر میں کوئی بھی شخص یا استاد کبھی پرانا نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ سیکھنے اور سکھانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو پرانا سمجھ لے تو اس کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔
پروفیسر محمد کاظم نے پیش کیے گئے مقالا ت کے موضوعات کو متنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام موضوعا ت ایک دوسرے سے مختلف تھے اور اسکالرز کی پیشکش کا انداز بھی قابلِ تحسین رہا۔ پروفیسر شیخ عقیل احمد نے بھی مقالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام موضوعات اہم اور قابلِ توجہ تھے ، تاہم بڑے مو ضو عات پر تحقیق کرتے وقت خاص احتیاط اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ظہرانے کے بعد تیسرے دن کا تخلیقی اجلاس دوپہر ڈھائی بجے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر ارشاد نیازی اور ڈاکٹر خالد رضا خان نے کی جبکہ نظامت ڈاکٹر نثار احمد نے انجام دی ۔ اجلاس میں محترمہ چشمہ فاروقی نے افسانہ، ڈاکٹر ناظمہ جبین نے افسانہ ’جرم ضعیفی کی سزا‘، ڈاکٹر ثمر جہا ں نے ’تتلی‘، محترمہ غزالہ پروین نے ’قسمت تیری ریت نرالی‘، ڈاکٹر راشدہ رحمان نے’بٹلہ ہاو ¿س باز ار‘، ڈاکٹر ذہیب خان نے’تیسرا آدمی‘، محمد شاہنواز انصاری نے ’پرانا ٹکٹ‘، محترمہ مبینہ نے’کھڑکی کے اس پار‘، محترمہ محمودہ قریشی نے ’خوابوں کا گھر‘، محترمہ اجالا نے ’راجما چاول اور حالی‘، ڈاکٹر عقیلہ نے ’ یقین کا سفر‘، محترمہ نور فاطمہ نے’لوٹا’، محترمہ عظمیٰ رضوان نے ’فاصلہ‘، محترمہ شفا فاروقی نے’آخری خط‘ اور محترمہ نازیہ دانش نے’گردش ایام‘ جیسی تخلیقات پیش کیں۔
تخلیقی اجلاس میں پیش کی گئی تخلیقات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد رضا خان نے اردو اکادمی کے ’نئے پرانے چراغ‘ پروگرام کو اپنی نوعیت کا منفرد پلیٹ فارم قرار دیا، جہاں بڑی تعداد میں قلم کارو ں، اسکالرز اور شعرا کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ڈاکٹر ارشاد نیازی نے پیش کی گئی تخلیقا ت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے دراصل تربیت گاہ کا کام کرتے ہیں، جہاں طلبہ اور اسکالرز کی خامیوں کی نشاندہی کرکے ان کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالعزیز نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی کہانی وہی ہے جو قاری کو پڑھنے کے بعد سوچنے پر مجبور کرے ۔تخلیقی اجلاس کے بعد محفل شعرو سخن کا انعقاد ہوا جس کی صدارت پروفیسر خالد محمود نے کی جبکہ نظامت کے فرائض عرفان اعظمی نے انجام دیے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *