
نئی دہلی،23اگست(میرا وطن نیوز)
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) نے ہفتے کی شام’بھارت اور بدلتی ہوئی کثیر قطبی دنیا: چیلنجز اور امکانات—ہندوستانی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے روڈ میپ ‘کے موضوع پر تبادلہ خیا ل کا اہتمام کیا جس میں ملک کے ممتاز ماہرین اقتصادیات، ماہرین تعلیم اور ماہرین عمرانیات شریک تھے۔ ماہرین کو اس لیے اکٹھا کیاگیاتھا تاکہ عالمی سیاسی اور اقتصادی ترتیب میں ہونے والی دور رس تبدیلیوں اور ہندوستان کے مستقبل پر ان کے اثرات پر غور کیا جا سکے۔
اس پینل ڈسکشن میں ممتاز ماہراقتصادیات پروفیسر سرجیت بھلا، پروفیسر ارون کمار( سابق پروفیسر آ ف اکنامکس، جواہر لال نہرو یونیورسٹی)؛ پروفیسر نوشاد علی آزاد( سابق ڈین، فیکلٹی آف سوشل سا ئنسز، جامعہ)، پروفیسر امیر اللہ خان، ریسرچ ڈائریکٹر، سینٹر فار ڈیولپمنٹ پالیسی اینڈ پریکٹس، حید ر آ باد)، ڈاکٹر رومکی مجمدار( معروف ماہرکاروباری معاشیات) اورڈاکٹر وقار انور (معروف اسلا می ماہر معا شیا ت) جبکہ صدارت پروفیسر محمد افضل وانی اور نظامت شیخ نظام الدین نے کی۔
اپنے تعارفی کلمات میں انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری جنرل محمد عالم نے کہا کہ دنیا گہرے جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ نسبتاً مستحکم عالمی اقتصادی نظام کے پرانے مفروضوں کو تزویراتی دشمنیوں، تنازعات، تجارتی تناو ¿، تکنیکی مسابقت، سپلائی چین میں رکاوٹیں، توانائی کی عدم تحفظ اور بڑھتی ہوئی تحفظ پسندی کی بناپر چیلنجزکا سامنا ہے۔
پروفیسرسرجیت بھلا نے اس ضرورت کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ ہندوستان اپنی اقتصادی کارکر دگی کا جائزہ نہ صرف دوسری بڑی معیشتوں کے مقابلے میں بلکہ اس کی اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور طو یل مدتی قومی امنگوں کے حوالے سے کرے۔ پروفیسرارون کمار نے معاشی ترقی کی حقیقی صحت اور پا ئیداری کا اندازہ لگانے میں روزگار، قوت خرید، عدم مساوات، غیر رسمی شعبے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی حالت کی اہمیت پر زور دیا۔
پروفیسرنوشاد علی آزاد نے سماجی ترقی ، معاشی ترقی اور سماجی تبدیلی کے درمیان وسیع تعلق کے تناظر میں اس مسئلے کا جائزہ لیا۔انہوں نے طویل مدتی ترقی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھنے والی معیشت کی تعمیر میں معیاری تعلیم، مہارت کی ترقی، صحت، روزگار اور مالی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکٹررمکی مجمدار نے بڑھتے ہوئے غیر یقینی عالمی ماحول میں ہندوستانی کاروبار اور صنعت کو درپیش چیلنجوں اور مواقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناو ¿، سپلائی چین میں رکاوٹوں، تکنیکی تبدیلیوں اور بین الاقو امی منڈیوں میں اتار چڑھاو سے متاثرہ دنیا میں لچک، تنوع اور موافقت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی نشاندہی کی۔
آئی او ایس کے چیئرمین پروفیسر افضل وانی نے ہندوستان کو درپیش معاشی اور اسٹریٹجک چیلنجوں کے ساتھ سنجیدہ اور پائیدار فکری مشغولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے شیخ نظام الدین نے بحث کے دوران ماہرین کے درمیان خیالات کے بامعنی تبادلے کو یقینی بنایا۔ انہوں نے مقررین، آئی او ایس کے سکریٹری جنرل محمد عالم،چیئرمین محمد افضل وانی، شرکاءاور بحث میں اپنےسوا لات کے ذریعےشریک اہل علم حضرات کا شکریہ اداکیا۔
No Comments: